یوپی آئی: سوشل میڈیا پرسرکار کے قول وفعل کا تضاد بے نقاب
صارفین نے نشاندہی کی کہ ۱۱؍ جون ۲۵ء کو نرملا سیتارمن نے یوپی آئی پر فیس کی خبروں کو ’’جھوٹی، بے بنیاد اور گمراہ کن ‘‘ قرار دیاتھا، ۶؍اگست کو میڈیا میں اور ۱۰؍ اگست کو پارلیمنٹ میں یقین دہانی کرائی کہ یو پی آئی مفت رہےگا۔
۲؍ ہزار روپے سے زائد کے یوپی آئی لین دین پر ۰ء۴؍فیصد چارج عائد کرنے کے معاملے میں مودی سرکار سوشل میڈیا پر بری طرح گھر گئی ہے۔ ’ایکس‘ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر صارفین نے مودی سرکار اور وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے قول وفعل کے تضاد کو بے نقاب کردیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے۱۱؍ جون۲۰۲۵ء کو اپنے مصدقہ ایکس اکاؤنٹ پر لکھا تھاکہ ’’یہ قیاس آرائیاں اور دعوے کہ یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر(چارج) وصول کیا جائے گا، بالکل جھوٹے، بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔‘‘ وزارت نے مزید کہا تھا، ’’ایسی بے بنیاد اور سنسنی پھیلانے والی قیاس آرائیاں شہریوں میں بلاوجہ بے یقینی، خوف اور شکوک پیدا کرتی ہیں۔ حکومت یو پی آئی کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے پوری طرح پابند عہد ہے۔‘‘بدھ کو متعدد صارفین نے اسے دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے حکومت کے متضاد بیانات کی جانب اشارہ کیا۔نکھل پہوا نے لکھا ہے کہ ’’….ہنسی آ رہی ہے، یہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ حکومت جو کہتی ہے، عموماً اس کے برعکس ہوتا ہے، تقریباً ایک سال لگ گیا…‘‘ چند صارفین نے وزیر خزانہ کی گزشتہ ماہ کی وضاحتوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں ٹیکسیشن بل میں ترمیم سے قبل جب جے رام رمیش نے یو پی آئی پر چارج عائد کئے جانے کا اندیشہ ظاہر کیاتھا تو ۶؍ اگست ۲۶ء کو نرملا سیتارمن نے بہت ہی سختی کے ساتھ انہیں ڈانٹنے کے انداز میں ان پر ’’افواہ ‘‘پھیلانے کا الزام عائد کیاتھا ۔ بعد میں ۱۰؍ اگست کو پارلیمنٹ میں بھی انہوں نے دعویٰ کیاتھا کہ صارفین کیلئے یو پی آئی مفت رہےگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یو پی آئی پر چارج براہ راست صارفین پر عائد نہیں کیا گیا بلکہ تاجروں پر عائد کیاگیاہے۔ خود کو اسٹاکس ٹریڈر بتانےوالے سوشل میڈیا صارف نے اس کو کھول کر بیان کرتے ہوئےلکھا ہے کہ ’’ اب بروکرز کو یو پی آئی پرفیس ادا کرنی ہوگی۔ اس لاگت کی وصولی کیلئےبروکرز کہہ رہے ہیں کہ وہ بروکریج چارجمیں اضافہ کریں گے۔ اس طرح فیس بالآخر صارفین کو ہی ادا کرنا پڑے گا۔‘‘ این ڈی ٹی وی کی سابق صحافی کادمبنی شرما نے پوسٹ کیا ہے کہ ’’اب سانسوں پر ٹیکس کا انتظار ہے۔‘‘
اس بیچ حکومت حامی طبقہ فیصلے کے دفاع میں لگ گیا ہے۔ ڈی ڈی نیوز پر صحافی سدھیر چودھری نے باقاعدہ شو کر کے فیصلے کی ضرورت اور اس کے فوائد بتائے ہیں جسے بی جےپی نے شیئر کیا ہے۔
کانگریس نے’’یو پی آئی لُوٹ‘‘ قرار دیا
کانگریس کی سوشل میڈیا سربراہ سپریہ شرینیت نے پریس کانفرنس کر کے الزام لگایا کہ ’’امریکی کمپنیاں ہندوستان کی زیرو ایم ڈی آر پالیسی کی مخالفت کررہی تھیں نریندر مودی نے ان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے اس ضمن میں امریکہ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا اور نشاندہی کی کہ یو پی آئی پر چارج کا فائدہ بھی امریکی کمپنیوں گوگل اور فون پے کو ہوگا جو ہندوستان کے یوپی آئی مارکیٹ پر ۷۲؍ فیصد پر قابض ہیں۔
فیصلہ عوام دشمن ہے: اپوزیشن ایم پی
بدھ کو اپوزیشن کے اراکین پارلیمان نے یو پی آئی ادائیگیوں پرفیس کو ’عوام دشمن‘ فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے یہ معاملہ وزارت مالیات کی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں اس فیصلے کے خلاف ’غصے کی لہر‘ ہے۔پارلیمانی کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین بھرترو ہری مہتاب نے کہا کہ کچھ اراکین نے اجلاس میں یہ معاملہ اٹھایا ہے اور اسے کمیٹی کے اگلے اجلاس میں زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔
جوہر ٹرسٹ سے پانچ سو کروڑ روپے وصول کرنے کی تیاری!
محکمہ انکم ٹیکس کا۴۵۰؍کروڑ کی غیر اعلانیہ آمدنی کا الزام ، اعلیٰ افسران کو مکتوب بھیج کراگلے مرحلہ کی کارروائی شروع کردی۔
جیل میں بند سابق ریاستی وزیر محمد اعظم خان کی پریشانی کم ہوتی نظر نہیں آرہی ہے ، رام پور میں واقع جوہر ٹرسٹ سے وابستہ مالی معاملات میںبدعنوانی کا الزام عائد کرنے کے بعد محکمہ انکم ٹیکس نے اگلے مرحلہ کی کارروائی شروع کردی ہے۔ جوہر ٹرسٹ کا رجسٹریشن رد ہونے کے بعد اب اعظم خان اور ٹرسٹ سے وابستہ افراد سے محکمہ انکم ٹیکس نےساڑھے چار سو کروڑ کی غیر اعلانیہ آمدنی پر جرمانہ اور سود کی شکل میں ۵؍ سو کروڑ روپے سے زیادہ کی وصولی کی تیاری شروع کردی ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ نے اعلیٰ افسران سے اجازت لینے کیلئے ہیڈکوارٹرز کو مکتوب روانہ کردیا ہے ہے ۔ جوہر ٹرسٹ جس کے زیر انتظام چلنے والی جوہر یونیورسٹی میں مبینہ مالی بدعنوانیوںکی جانچ محکمہ انکم ٹیکس کے ذریعہ کرائی گئی تھی۔ جانچ میں مالی بدعنوانی کےعلاوہ فرضی لوگوں کو ٹرسٹی بنا کر کروڑوں روپے کا چندہ جمع کرنے کادعویٰ کیاگیا ہے۔
محکمہ انکم ٹیکس کا دعویٰ ہے کہ ٹرسٹ کے ممبران ٹرسٹ کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں بتاپائے جس کے نتیجے میں تقریباً ساڑھے چار سو کروڑ روپے کی غیر اعلانیہ رقم پر ۳۰؍ فیصد جرمانہ اور سود وصول کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ ان سرکاری محکموں سے بھی رقم وصول کرنےکی تیاری کی جارہی ہے جنھوںنے اعظم خان کے کہنے پر جوہر یونیورسٹی کی تعمیر میں سرکاری رقم خرچ کی تھی۔ای ڈی بھی جوہر ٹرسٹ سے وابستہ لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے ۔کئی افراد کو دہلی میں ای ڈی کے دفتر میں طلب کیاگیاہے۔ تفتیش مکمل ہونے پر ای ڈی جوہر ٹرسٹ کی ان عمارتوں کو ضبط کرسکتی ہے جن کی تعمیر میں مبینہ طور پر سرکاری محکموں کی رقم صرف کی گئی ہے ۔ ای ڈی کی ٹیم اعظم خان اور انکے گھروالوں سمیت انکے قریبی لوگوں کی املاک کی بھی جانچ کر رہی ہےتاکہ ان کو بھی ضبط کیا جا سکے۔
’’اقلیتوں کیساتھ ناانصافی نہ کی جائے، انہیں سیاسی نمائندگی کا مساوی حق ملنا چاہیے‘‘
پونے میں : انتخابی حلقوں کی حد بندی پر سمینار کا انعقاد، سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت۔
دائیں سے کلیم عظیم،انیس سُنڈکے،ریاض قاضی، قاری ادریس ، غفور پٹھان، اظہر تمبولی اور سابق آئی جی عبدالرحمٰن۔ تصویر: آئی این این
پونے میں ’’انتخابی حلقوں کی حد بندی: ایک بحث‘‘ کے عنوان سے ایک اہم سمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہر کی مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اس پروگرام کا اہتمام مہاراشٹر کے سابق آئی جی پی اور آئی پی ایس افسر عبدالرحمٰن اور ان کی ٹیم کی جانب سے پونے کے کیمپ علاقے میں واقع لیڈی حوّا بائی اسکول میں کیا گیا۔ سمینار کے دوران انتخابی حلقوں کی حد بندی، اسکے ممکنہ سیاسی اثرات اور خصوصاً مسلم سماج کی سیاسی نمائندگی جیسے اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پروگرام کا مقصد مسلم سماج میں سیاسی بیداری اور شعور کو فروغ دینا اور عوام کو انتخابی عمل، حلقہ بندی اور سیاسی نمائندگی سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنا تھا۔
اس تقریب کے آرگنائزراور کلیدی مقرر سابق آئی پی ایس عبدالرحمٰن نے انتخابات اور حلقہ بندیوں (انتخابی حدود کا ازسرِ نو تعین) کے تصورات، اس سے وابستہ عمل، اور آئندہ ہونے والی حلقہ بندیوں کے عام شہریوں اور جمہوریت پر ممکنہ اثرات کو واضح اور سادہ الفاظ میں بیان کیا۔انہوںنے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں عوام کا اپنے حقوق اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے باخبر اور باشعور ہونا انتہائی ضروری ہے۔ خاص طور پر مسلم سماج کو انتخابی عمل اور حلقہ بندی کے اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی بیداری کے اس سلسلے کو صرف پونے تک محدود نہیں رکھا جائے گا، بلکہ مستقبل میں مہاراشٹر کے مختلف شہروں اور علاقوں میں بھی ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں گے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک سیاسی شعور اور بیداری کا پیغام پہنچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیتے وقت اکثر سیاسی حساب کتاب کو پیش نظر رکھتی ہیں۔ بعض جماعتوں کے فیصلہ سازی کے عمل میں یہ اندیشہ دکھائی دیتا ہے کہ مسلم امیدوار کو امیدوار بنائے جانے سے غیر مسلم ووٹر ناراض ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلم سماج کو آبادی کے تناسب سے امیدواریاں اور سیاسی نمائندگی حاصل نہیں ہو پاتی۔ یہ صورتِ حال جمہوری نمائندگی کے اصول کے لیے تشویش ناک ہے۔سمینار میں شریک سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی انتخابی حلقوں کی حد بندی اور سیاسی نمائندگی سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔ شرکاء نے اس طرح کے سیمینار کو موجودہ دور میں اہم اور وقت کی ضرورت قرار دیا۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے اقبال شیخ، انجم انعامدار، سفیان قریشی، زبیر میمن، منور قریشی، اقبال انصاری، مولانا جمیل قادری، ابراہیم ایوت محل والا سمیت دیگر کارکنان نے خصوصی محنت کی۔
مسلم سماج سےیہ اپیل کی گئی
اپنی سیاسی شرکت کو صرف انتخابات میں ووٹ ڈالنے تک محدود نہ رکھے بلکہ مقامی خود اختیاری اداروں، اسمبلی، لوک سبھا، راجیہ سبھا اور پالیسی سازی کے عمل میں بھی فعال کردار ادا کرے۔اس کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسلم معاشرے سے تعلق رکھنے والے اہل، تعلیم یافتہ، سماجی وابستگی رکھنے والے اور عوام سے جڑے ہوئے کارکنوں کو مناسب مواقع فراہم کریں۔
سیکولرزم کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعتوں کو بھی مسلم سماج کی سیاسی نمائندگی کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ صرف انتخابات کے دوران اقلیتی ووٹوں کو اہمیت دینا اور اسکے بعد امیدواروں کے انتخاب اور فیصلہ سازی کے عمل میں انہیں مناسب مقام نہ دینا جمہوری اعتبار سے ایک تضاد ہے۔اقلیتی معاشرہ کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ مسلم معاشرہ کو کسی رحم یا احسان کے طور پر نہیں بلکہ جمہوریت میں مساوی حق کے طور پر نمائندگی ملنی چاہیے۔
– عبدالرحمٰن،سابق آئی پی ایس افسر
