اسرائیلی مظاہرین کا کابینہ کے اجلاس سے قبل قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کا مطالبہ
اگست 26 (اےیوایس)
اسرائیل
غزہ جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین منگل کی صبح سویرے اسرائیل میں سڑکوں پر نکل آئے۔ ان کا یہ مظاہرہ شام کو ہونے والے سکیورٹی کابینہ کے اجلاس سے قبل سامنے آیا۔
اے ایف پی کے صحافیوں نے مظاہرین کو تل ابیب میں سڑکیں بلاک کرتے، اسرائیلی پرچم لہراتے اور قیدیوں کی تصویریں اٹھائے ہوئے دیکھا۔
اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی کہ شہر میں امریکی سفارت خانے کی شاخ کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں مختلف وزراء کے گھروں کے باہر بھی ریلیاں نکالی گئیں۔
“ایک پیشکش موجود ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے رہنما مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور کوئی معاہدہ طے ہو جانے تک نہ اٹھیں،” قیدیوں کے خاندانوں کے ایک نمائندہ فورم کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ بات ہیگیٹ چن نے کہی جن کا بیٹا قیدیوں میں شامل ہے۔ سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کا ایجنڈا باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن مقامی اطلاعات ہیں کہ اس میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ کرنے کے لیے از سرِ نو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ کابینہ نے اگست کے اوائل میں غزہ شہر پر فوجی قبضے کا منصوبہ منظور کیا تھا جس سے قیدیوں کی حفاظت کے لیے نئے خدشات پیدا ہوئے اور حالیہ ہفتوں میں دسیوں ہزار افراد ملک کی سڑکوں پر نکل آئے۔ نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے فوری مذاکرات کا حکم دیا تھا جن کا مقصد غزہ میں موجود بقیہ تمام اسیروں کی رہائی کو یقینی بنانا تھا جبکہ غزہ شہر پر قبضے کے لیے ایک نئی جارحیت کے منصوبے پر بھی زیادہ شدت سے زور دیا۔ حماس نے اس سے چند دن قبل کہا تھا کہ اس نے ثالثین کی پیش کردہ ایک نئی جنگ بندی تجویز قبول کر لی تھی جس میں ابتدائی 60 دن کی مدت میں اسرائیل کے زیرِ حراست فلسطینیوں کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔
15
