4

خامنہ ای کی گمشدگی معمہ بن گئی، ایرانیوں میں مختلف قیاس آرائیاں

خامنہ ای کی گمشدگی معمہ بن گئی، ایرانیوں میں مختلف قیاس آرائیاں
ایران میں رہبر کا منصب سنبھالے مجتبٰی خامنہ ای کو 6 ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، تاہم وہ اب بھی تہران کی سڑکوں پر صرف اپنی تصاویر اور پوسٹرز کی صورت میں ہی نظر آتے ہیں، جبکہ خود منظرعام سے مکمل طور پر غائب ہیں۔

ایرانی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں ان کی تصاویر بڑے بڑے دیوار گیر اشتہارات اور بل بورڈز پر نمایاں ہیں، جہاں انہیں ان کے والد علی خامنہ ای کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ ان کے حامی بھی اجتماعات اور ریلیوں میں ان کی تصاویر اٹھائے نظر آتے ہیں۔

تاہم قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ منصب سنبھالنے کے بعد سے خود مجتبٰی خامنہ ای ایک مرتبہ بھی منظرعام پر نہیں آئے، جس کے باعث ایران کے اندر ان کے بارے میں سوالات اور افواہوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

بے مثال غیر حاضری اور سوالات

منصب سنبھالنے کے بعد سے مجتبٰی خامنہ ای کی کسی عوامی تقریب میں شرکت ریکارڈ نہیں ہوئی، حتیٰ کہ وہ گزشتہ جولائی میں اپنے والد کی آخری رسومات میں بھی شریک نہیں ہوئے۔

انہوں نے نہ کوئی تصویر جاری کی نہ ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی، بلکہ تحریری بیانات کے ذریعے ہی ریاستی امور چلانے تک محدود رہے۔

ایرانی حکام اگرچہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کی یہ غیر حاضری سخت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہے۔ ان کے مطابق اعلیٰ حکام کو نشانہ بنانے والی پے در پے کارروائیوں کے بعد، جن کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا گیا، سخت حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ ان کارروائیوں میں خود علی خامنہ ای بھی نشانہ بنے تھے۔

تاہم اس وضاحت سے بھی بہت سے ایرانیوں کے شکوک دور نہیں ہوئے۔بہت سے ایرانی نئے رہبر کے انجام کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ والد کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنانے والے حملے میں مجتبٰی خامنہ ای بھی مارے گئے تھے۔جبکہ بعض دیگر کا کہنا ہے کہ وہ شدید زخمی ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے عوام کے سامنے نہیں آ رہے۔

میں تحریری بیانات پر یقین نہیں کر سکتا

ان قیاس آرائیوں کے تناظر میں تہران کے ایک دکاندار نے فننشل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’یا تو وہ بمباری میں مارے گئے یا اس حد تک زخمی ہوئے کہ انہیں لوگوں کے سامنے لانا ممکن نہیں۔ میں تحریری بیانات پر یقین نہیں کر سکتا۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو کم از کم ایک ویڈیو ہی جاری کر سکتے تھے۔‘‘

اس ابہام کے باعث ایرانیوں میں مختلف نظریات پھیل گئے ہیں۔ بعض لوگ ان کی ہلاکت کا امکان ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ کچھ کا دعویٰ ہے کہ ’’بیرونی طاقتیں‘‘ پس پردہ رہ کر ملک کے معاملات چلا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ عجیب و غریب افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں، جن میں یہ دعویٰ شامل ہے کہ ان کی جگہ سامنے لانے کے لیے ان سے مشابہ افراد تیار کیے جا رہے ہیں۔شہریوں اور حکام کے درمیان اعتماد کی سطح میں کمی نے بھی ان شکوک کو مزید تقویت دی ہے، جس کے باعث بہت سے ایرانی سرکاری مؤقف پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ شک کرنے لگے ہیں۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی غیر حاضری جنگ کے بعد ایرانی نظام میں آنے والی ایک گہری تبدیلی کی بھی عکاسی کرتی ہے، جہاں شخصیت کی مرکزیت کم ہوئی ہے اور پاسداران انقلاب کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔ بہت سے ایرانیوں کا خیال ہے کہ اصل فیصلے اب پاسداران انقلاب ہی کرتا ہے۔

اپنے پیش رو رہنماؤں سے موازنہ

مجتبٰی خامنہ ای کی غیر معمولی غیر حاضری اس وقت مزید نمایاں ہو جاتی ہے، جب اس کا موازنہ ان کے پیش رو رہنماؤں سے کیا جائے۔ ’’اسلامی جمہوریہ کے بانی‘‘ روح اللہ خمینی اپنے دورِ اقتدار میں ایرانی عوام سے باقاعدگی سے خطاب کیا کرتے تھے۔

دوسری جانب علی خامنہ ای بھی ٹیلی وژن پر باقاعدگی سے، بعض اوقات ہفتہ وار، نمودار ہوتے اور تقریباً چار دہائیوں تک ریاست کی سیاسی اور نظریاتی سمت کا تعین کرنے والے خطابات کرتے رہے۔

اس کے برعکس مجتبٰی خامنہ ای جنگ سے پہلے بھی منظرعام سے دور رہنے والی شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے اور تدریس میں گزارا اور وسیع پیمانے پر معروف نہیں تھے۔یہاں تک کہ ایران کے کئی سینئر سیاست دان بھی ان سے کبھی ذاتی طور پر نہیں ملے۔ ان کی دستیاب ویڈیو مواد بھی انتہائی محدود ہے، جس میں زیادہ تر 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران رضاکار کی حیثیت سے ان کی شرکت کے چند مناظر شامل ہیں۔

خطابات کے بجائے تحریری بیانات

تاہم منظرعام سے غائب رہنے کے باوجود مجتبٰی خامنہ ای سیاسی اور مذہبی امور سے متعلق بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔ ان بیانات میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں اور اندرونی اتحاد کی بار بار اپیلیں بھی شامل ہیں۔

حکومتی حلقوں سے واقف ذرائع نے تسلیم کیا ہے کہ ایسے افراد کی تعداد انتہائی محدود ہے جو براہِ راست رہبر تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان کو وہ واحد اعلیٰ عہدیدار قرار دیا گیا ہے جنہوں نے ان سے ملاقات کا علانیہ ذکر کیا ہے۔

دوسری جانب بیرونِ ملک سفارت کاروں نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ خامنہ ای اب بھی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور فیصلہ سازی کے مراکز پر کنٹرول رکھتے ہیں، اگرچہ وہ ابھی تک اپنے والد کو حاصل رہنے والا اثر و رسوخ پوری طرح مستحکم نہیں کر سکے۔

تاہم گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات نے قیاس آرائیوں کو مزید ہوا دی، جن میں انہوں نے حملے میں رہبر کے ’’بہت شدید‘‘ زخمی ہونے کی بات کی تھی۔اس کے برعکس ایرانی وزارتِ صحت نے تصدیق کی کہ ان کے زخم معمولی نوعیت کے تھے اور انہیں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت تک اسپتال میں رکھا گیا۔

معاشی بحران نے شکوک کو مزید بڑھا دیا

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب ایران کو بڑھتے ہوئے معاشی بحران کا سامنا ہے۔ سالانہ مہنگائی کی شرح تقریباً 90 فیصد کی سطح تک پہنچ چکی ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے مسلسل دباؤ اور پابندیاں بھی برقرار ہیں۔

تہران میں کام کرنے والی 30 سالہ ایک صفائی ورکر نے کہا: جب اشیائے خورونوش کی قیمتیں ہر روز بڑھتی ہیں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک کا کوئی حقیقی سربراہ ہی نہیں۔ اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں مجھے اپنی بیٹی سمجھ کر دیکھنا چاہیے اور اس بات پر افسوس کرنا چاہیے کہ میں اب زندگی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتی۔

دوسری جانب اصلاح پسند سیاست دان محمد صادق جوادی حصار نے کہا کہ اس طرح کی باتوں کا پھیلاؤ ضروری نہیں کہ ان کے درست ہونے کی وجہ سے ہو، بلکہ اس کے پیچھے کئی برسوں سے معاشرے اور ریاست کے درمیان جمع ہونے والی مایوسی اور اعتماد کے فقدان کی کیفیت بھی کارفرما ہے۔

نظام کے حامی: غیاب سکیورٹی کی ضرورت

دوسری جانب، نظام کے حامیوں نے مجتبیٰ کے منظر سے غائب رہنے کو اسے درپیش سکیورٹی خطرات کے پیش نظر ایک منطقی اقدام قرار دیا۔ 29 سالہ کمپیوٹر انجینئر زینب نے کہا، ہم اس کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ جب تک اس کی مکمل سکیورٹی یقینی نہ ہو جائے، اسے کوئی آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ جاری نہیں کرنی چاہیے۔

جوادی حصار نے بھی رائے دی کہ ریاستی اداروں کا مسلسل متحد رہنا اور اس حساس مرحلے پر فیصلوں کا ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پردے کے پیچھے کوئی مرکزی قیادت معاملات چلا رہی ہے۔

نظام پراسرار رہنما کی تصویر پیش کرنے کی کوشش

قیاس آرائیوں کے طوفان کے پیش نظر ایرانی حکام نے مجتبیٰ کی موجودگی ثابت کرنے اور ان کی صحت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

پزشکیان نے کہا کہ انہوں نے رہبرِ ایران کے ساتھ پورے 7 گھنٹے گزارے، جس دوران روزمرہ زندگی، روزگار اور رہائش سے لے کر پابندیوں اور جنگ تک مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خامنہ ای کی صحت اچھی ہے۔سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی ان کے قریبی شخصیات کے انٹرویوز نشر کیے تاکہ ان کی مذہبی اور ذاتی شخصیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

یہاں تک کہ ان کے ایک قریبی رشتہ دار نے رواں ہفتے بتایا کہ خامنہ ای برطانوی فلم ڈائریکٹر کرسٹوفر نولان کی فلموں کے شوقین تھے اور انہیں اپنی اہلیہ کے ساتھ دیکھا کرتے تھے۔اس کے باوجود یہ تنازع جلد ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

اقتدار کے قریب سمجھے جانے والے افراد جہاں اصرار کر رہے ہیں کہ یہ ابہام ایران کے مفاد میں ہے اور اس کے مخالفین کو الجھن میں مبتلا کر رہا ہے، وہیں ایرانیوں کے درمیان یہ سوال بدستور گردش کر رہا ہے، جس کا اب تک کوئی حتمی جواب نہیں ملا: مجتبیٰ خامنہ ای کہاں ہیں اور کیا واقعی اقتدار کی باگ ڈور انہی کے ہاتھ میں ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں