6

ایران پوری طاقت کے ساتھ مزاحمت جاری رکھے گا: مسعود پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک پوری طاقت کے ساتھ اس وقت تک مزاحمت جاری رکھے گا جب تک کہ “حملہ آور” پشیمان نہ ہو جائیں اور ایران کے حقوق محفوظ نہیں ہو جاتے”۔ ان کا یہ بیان ماضی کے برعکس ان کے کم صلح جوانہ لہجے کی عکاسی کرتا ہے۔
پزشکیان نے “ایکس” پلیٹ فارم پر لکھا کہ “اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ سے جنگ کے خلاف رہا ہے، یہ سمجھتا ہے کہ عوام کے مفادات اور خطے کے امن کا تحفظ تصادم سے بچنے میں مضمر ہے”۔
انہوں نے مزید کہاکہ “لیکن جیسا کہ اس نے آج تک جارحیت کے خلاف بہادری سے اپنا دفاع کیا ہے، وہ اس وقت تک پوری طاقت کے ساتھ یہ مزاحمت جاری رکھے گا جب تک کہ حملہ آور پشیمان نہ ہو جائیں اور وہ عوام کے حقوق کی محافظ بنی رہے گی”۔
امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کا بحران ابھی تک کسی فوری حل کے آثار ظاہر کیے بغیر شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔
تازہ ترین پیش رفت میں ایران نے منگل کے روز امریکہ کو “معاشی جنگ” کی دھمکی دی اور دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر ایک جدید میزائل فائر کیا ہے، جو فریقین کے درمیان دوبارہ حملوں کے تبادلے کے چند ہی دن بعد جنگ میں مزید کشیدگی کے امکانات کی تصدیق کرتا ہے۔
چھ ماہ سے جاری جنگ میں پرسکون ادوار کے بعد کشیدگی کی لہریں آتی رہی ہیں۔ حال ہی میں امریکہ نے اتوار کو ایرانی اہداف پر حملے کرنے کا اعلان کیا، جب اس کی فورسز نے تین ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کے روز ذکر کیا کہ ایران نے متعدد امریکی بحری جہازوں پر اپنے حملوں کے دوران “قاسم بصیر” نامی میزائل فائر کیا۔
ایران نے آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک نئے بحری کوریڈور کے نقشوں کے ساتھ ساتھ ایک نئے نو فلائی زون کا اعلان کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ تفصیلات کا اعلان کب کیا جائے گا۔
اس کے مقابلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ “جب ہم ایران کے ساتھ جنگ جیت جائیں گے تو تیل کی قیمتیں بہت زیادہ گر جائیں گی جیسے ہر دوسری چیز گرتی ہے (بلکہ اس سے بھی زیادہ!)۔ گیلن کے تین ڈالر، لیکن آخر کار گیلن کے دو ڈالر سے کم۔ یہ سب بہت جلدی ہو گا، اور ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا”۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں