4

امریکی سفارت کار سے ملاقات، وزیرِ خارجہ کا شرقِ اوسط میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات پر زور

امریکی سفارت کار سے ملاقات، وزیرِ خارجہ کا شرقِ اوسط میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات پر زور
پاکستان کا جون میں طے کردہ عبوری معاہدے کی طرف واپسی کا مطالبہ
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافے کے دوران منگل کو پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر سے ملاقات کی جس میں شرقِ اوسط میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مذاکرات پر زور دیا گیا۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے منگل کو بتایا، “امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے آج نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔”

نیز کہا، “گفتگو کا مرکز پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعاون اور خطے کی حالیہ صورتِ حال تھی۔ انہوں نے پائیدار امن کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔”

قبل ازیں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافے کے پیشِ نظر پاکستان نے اس عبوری معاہدے کی طرف واپسی پر زور دیا جس کی تشکیل میں اس نے جون میں کردار ادا کیا تھا۔ ساتھ ہی پاکستان نے بین الاقوامی قانون اور عالمی امن و ترقی کے فروغ میں اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

اسحاق ڈار اور اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ اور اقوامِ متحدہ کے اگلے سیکرٹری جنرل کے امیدوار رافیل گروسی کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس کے دوران یہ مطالبہ سامنے آیا۔

پیر کی رات دونوں عہدیداروں کے درمیان گفتگو کے بعد پاکستانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، “انہوں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال اور اس بات پر اتفاق کیا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ’اسلام آباد مفاہمت نامے‘ پر عمل درآمد ہی بہترین لائحہ عمل ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ گروسی نے ضرورت پڑنے پر تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔

پاکستان نے امریکہ-ایران تنازعہ حل کرنے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں