سعودی عرب پاکستان کے لیے ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا
سعودی عرب میں پاکستانی کارکن قیمتی زر مبادلہ کے طور پر ہر سال 3.7 ارب ڈالر کی خطیر رقم پاکستان بھیجتے ہیں۔ یہ بات ماہ اگست تک کے مرتب شدہ اعداد و شمار کی بنیاد پر بتائی گئی ہے۔
ماہ اگست کے دوران سعودی عرب سے ترسیلات زر میں 16.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات مرکزی بنک نے بدھ کے روز بتائی ہے۔
سعودی عرب ان اعداد و شمار کی روشنی میں اب بھی ترسیلات زر کے ذریعے کے طور پر سب سے بڑا ملک ہے۔
ترسیلات زر میں نئے مالی سال کے دوران شروع میں ہی یہ اضافہ ایک اچھے اور مضبوط آغاز کا اشارہ ہے۔ پاکستان نے جون میں مکمل ہونے والے مالی سال میں 41.6 ارب ڈالر ترسیلات زر کی مد میں ملے ہیں۔ یہ ترسیلات زر پاکستانی معیشت میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سٹیٹ بنک آف پاکستان نے حال ہی میں رپورٹ کیا ہے کہ 2026 میں پاکستان کو 3.7 ارب ڈالر ترسیلات زر کی مد میں ملے۔
سعودی عرب سے ترسیلات زر کی مقدار ماہ اگست میں 873.5 ملین ڈالر رہی۔ متحدہ عرب امارات سے اس مد میں 749.8 ملین ڈالر رقم موصول ہوئی۔ برطانیہ سے563.7 ملین ڈالر کی رقم آئی جبکہ امریکہ سے 308.9 ملین ڈالر کی رقم ترسیلات زر کی صورت آئی۔
خلیجی ممالک روایتی طور پر ترسیلات زر کے سلسلے میں اہم ملک رہے ہیں۔ ان ملکوں میں پاکستان کے کارکن لاکھوں کی تعداد میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ پچھلی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ترسیلات زر میں اس اضافے کا خیر مقدم کیا ہے۔
سٹیٹ بنک آف پاکستان نے ماہ مئی میں ہی اعلان کر دیا تھا کہ ترسیلات زر کے سلسلے میں بڑی رقم موصول ہونے کی توقع ہے۔ اگرچہ خلیجی ملکوں میں جنگی ماحول کے باعث صورت حال قدرے غیر یقینی ہو گئی ہے۔
