عدن کے مشرق میں 75 بحری میل کے فاصلے پر ایک جہاز پر حملہ کیا گیا: برطانوی ادارہ
مغرب کی طرف جانے والے آئل ٹینکر نے بتایا ایک چھوٹی کشتی نے اس کا پیچھا کیا اور روکنے کی کوشش کی
برطانوی بحری تجارتی آپریشنز اتھارٹی (UKMTO) نے بتایا ہے کہ اسے یمن کے ساحلی شہر عدن کے مشرق میں 75 بحری میل کے فاصلے پر پیش آنے والے ایک سکیورٹی واقعے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ادارے نے بتایا کہ مغرب کی جانب گامزن ایک تیل بردار ٹینکر کے عملے نے رپورٹ دی ہے کہ ایک چھوٹی کشتی نے ان کے جہاز کا پیچھا کیا اور اسے زبردستی روکنے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے لیے کون سا فریق ذمہ دار ہے یا اس سے کوئی جانی و مالی نقصان ہوا ہے یا نہیں، اس بارے میں ابھی تک صورتِ حال مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکی ہے۔ متعلقہ حکام نے تمام حالات و واقعات کی تفصیلی تحقیقات شروع کردی ہے۔
بحیرہ احمر میں سکیورٹی خدشات اور معاشی اثرات
حوثیوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے بعد باب المندب اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی سلامتی سے متعلق بین الاقوامی خدشات میں شدید اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ خدشات گزشتہ کچھ دنوں کے دوران ملیشیا کی پیش قدمی کے ساتھ سامنے آئے ہیں جس میں بحیرہ احمر کے اہم داخلی راستے پر واقع جزیرے ’’ میون ‘‘پر قبضہ بھی شامل ہے۔ دوسری طرف یمنی سرکاری فورسز نے شہر ’’ مخا ‘‘ کے جنوب میں اپنی صفوں کی دوبارہ تنظیمِ نو کا اعلان کیا ہے۔
نتیجے کے طور پر سٹریٹجک اہمیت کے حامل باب المندب پر واقع یمن کے مغربی ساحل اور اس تنگ سمندری راہداری کے اندر اور اس کے ارد گرد واقع اہم جزائر پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
یاد رہے جولائی کے مہینے میں یمن ایک بار پھر علاقائی کشیدگی کے مرکزی نقطے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ کی لہر کے ساتھ ساتھ حوثی ملیشیا اور یمنی سرکاری فورسز کے درمیان دوبارہ سے تصادم شروع ہونا ہے۔
1
