میں جلد ہی ایران کے بارے میں ایک بڑا فیصلہ کروں گا: ٹرمپ
ایرانی حکومت کو ختم کرنے کا فیصلہ اہم اور بڑا ہے ، تمام امکانات موجود ہیں: ایگزیوس سے گفتگو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز ویب سائٹ ’’ ایگزیوس ‘‘کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ جلد ہی ایران سے متعلق ایک بڑا اور اہم فیصلہ کرنے والے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا پڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی حکومت کا خاتمہ کرنے سے متعلق فیصلہ انتہائی اہم اور بڑا ہے اور اس سلسلے میں تمام تر امکانات میز پر موجود ہیں۔ امریکی صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ دنیا اب ایران کی جنگ میں ایک انتہائی اہم موڑ کے قریب پہنچ رہی ہے۔
ایرانی موقف
دوسری جانب ایرانی صدر کے نائب اول محمد رضا عارف نے امریکہ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ تمام نکات پر عمل درآمد کرے جس کی بنیاد پر فریقین کے درمیان جنگ بندی طے پائی تھی۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی “تسنیم” نے محمد رضا عارف کے حوالے سے بتایا کہ ایران کو امید ہے کہ دشمن ہوش کے ناخن لے گا اور دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت میں کی گئی اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔ تاہم اس کے باوجود انہوں نے واضح کیا کہ اس یادداشت پر عمل درآمد سے اس نظام کے ساتھ قائم بنیادی اختلافات ختم نہیں ہوں گے جسے انہوں نے سامراجی نظام قرار دیا۔
ایرانی صدر کے نائب اول رضا عارف نے ایرانی یونیورسٹی کے اساتذہ کی ایسوسی ایشن کے ایک پیشہ ورانہ اجلاس کی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو گزشتہ چار دہائیوں سے اپنے مخالفین کی جانب سے اس صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہے جسے انہوں نے بالواسطہ جنگ کا نام دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب اس کے ساتھ براہِ راست مقابلے میں شامل ہو چکے ہیں۔
دیگر معاملات پر پیش رفت
ایک اور تناظر میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہ جلد ہی پولینڈ میں امریکی فوجی اڈے کے حتمی مقام کا اعلان کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ میں امریکی فوج کا اڈہ قائم کرنے کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کے آخری مراحل کے بارے میں اپنی گفتگو کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ٹرمپ کا یہ ارادہ بھی ہے کہ وہ اگلے ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے آئے ہوئے خلیجی ممالک کے وفود کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے راستے اور حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ خلیجی ممالک کو ایران کے ساتھ جنگ کے بعد کی حکمتِ عملی کے بارے میں اپنے خیالات اور منصوبوں سے آگاہ کریں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آرہی جب امریکی صدر اور ان کے سینئر حکام کی ٹیم “اگلے دن” کا ایک جامع منصوبہ تیار کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ویب سائٹ ’’ ایگزیوس‘‘ کے مطابق اس منصوبے کے بارے میں توقع ہے کہ کانگریس کے مڈ ٹرم انتخابات کے بعد اسے حتمی شکل دے دی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے رہنماؤں یا وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور سلطنتِ عمان شامل ہیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز اس اجلاس کے ابتدائی دعوت نامے بھی بھیج دیے تھے۔
ایک اور باخبر ذریعہ نے یہ بھی بتایا کہ یہ ملاقات آگے چل کر دیگر عرب اور مسلم ملکوں کے رہنماؤں تک بھی وسیع ہو سکتی ہے۔ اس تمام معاملے پر وائٹ ہاؤس نے فی الحال کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ تمام پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ اپنے خاتمے کے قریب پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ تہران ایک معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔ وہ شدت کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اب ہم دیکھیں گے کہ آگے چل کر معاملات کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔ ٹرمپ نے اس سے قبل بھی مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ایران میں جنگ کے خاتمے کے امکان پر بات کی تھی اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی ممکنہ مذاکراتی راستے کی تفصیلا ت فی الحال واضح نہیں ہو سکی ہیں۔
واضح رہے جون میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک عارضی مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا لیکن اس کے باوجود تنازع حتمی طور پر ختم نہیں ہو سکا تھا۔ بعد ازاں خاص طور پر باب المندب کی صورتِ حال اور بین الاقوامی جہاز رانی کی نقل و حرکت کے لیے اسے دوبارہ کھولنے کے طریقہ کار سے متعلق پیدا ہونے والے اختلافات کے پس منظر میں فریقین کے درمیان دوبارہ تصادم شروع ہوگیا تھا۔
1
