نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات پر ممکنہ اثرات کے باوجود مجھے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا۔
فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں میزبان لورا انگرام نے ٹرمپ سے پوچھا، کیا آپ کو انتخابات پر اثرات کے پیشِ نظر ایران کے خلاف جنگ پر کوئی افسوس ہے تو انہوں نے کہا: “میں ‘افسوس’ کے لفظ پر یقین نہیں رکھتا۔ آپ ہمیشہ خود سے تھوڑا بہت سوال کر سکتے ہیں۔”
جمعرات کو نشر کردہ شو “دی انگرام اینگل” (The Ingraham Angle) میں ٹرمپ نے کہا: “اگر مجھے یہ سب دوبارہ کرنا پڑتا تو میں بالکل ویسا ہی کرتا جیسا میں نے کیا۔”
ٹرمپ نے ان تأثرات کو مسترد کر دیا کہ ان کے بعض حامی اس جنگ کی وجہ سے ناراض یا ان کے حوصلے پست ہو گئے۔
ٹرمپ نے کہا: “مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوا ہے۔ میرا خیال میں انہیں اس پر بہت فخر ہے کہ میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے رہا۔”
ٹرمپ نے اپنے اس خیال کا اعادہ کیا کہ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہو جائے گی۔
انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا: “یہ انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔” انہوں نے بدھ کو بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار اور الزام عائد کیا تھا کہ تہران انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے جن سے یہ طے ہو گا کہ آیا ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔
ایران کے خلاف جنگ سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ انتخابات سے قبل ریپبلکنز کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
ایران میں اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کو اپنا ایک جنگی مقصد قرار دیا ہے۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور وہ کہتا ہے کہ اس کا یورینیم افزودگی کا پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ دوسری جانب امریکہ جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک ہے۔
