Israel-Hamas War: یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل میں مظاہرے، 38 گرفتار، سمجھوتے کے لیے تیار نہیں نیتن یاہو
اگست 22(اےیوایس)
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب اسرائیل کے اندر ہی بے اطمینانی ابھرنے لگی۔ اس سے قبل وہاں کے آرمی چیف نے جنگ کے خلاف بیان دیا تھا اور اب اتوار کو اسرائیل میں ہزاروں افراد نے ملک بھر میں مظاہرے کیے اور سڑکیں بند کر دیں اور ایک روزہ ہڑتال کر دی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ کیا جائے۔
مظاہرے کے دوران پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا اور 38 افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان مظاہروں کا اہتمام مغویوں کے اہل خانہ نے کیا تھا۔ یہ لوگ غزہ میں حکومت کے نئے فوجی آپریشن سے ناراض ہیں کیونکہ اس سے باقی 50 یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اب ان میں سے صرف 20 زندہ ہیں۔
نیتن یاہو معاہدے کے خلاف ہیں
حالانکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کسی بھی ایسے معاہدے کے خلاف ہیں جس میں حماس اقتدار میں رہے۔ انھوں نے کہا، ‘جو لوگ حماس کو شکست دیے بغیر جنگ روکنا چاہتے ہیں وہ یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کر رہے ہیں اور ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔’ ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم غزہ شہر سے لوگوں کی نقل مکانی پر بضد ہیں۔ اس کے لئے انہوں نے محفوظ مراکز بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے، جس میں وہ لوگوں کو شفٹ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اقوام متحدہ وہاں کے انتظامات سے مطمئن نہیں۔
غزہ میں اتوار کے روز کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 9 افراد اقوام متحدہ کی امداد کے منتظر تھے۔ غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ غذائی قلت کے باعث دو بچوں سمیت مزید 7 افراد کی موت بھی ہوئی۔ اسرائیلی فوج غزہ کے گنجان آباد علاقوں میں ایک نیا فوجی آپریشن شروع کرنے جا رہی ہے جس کے لیے ہزاروں ریزرو فوجیوں کو بلایا جائے گا۔ تاہم جن علاقوں کو لوگ سیف زون قرار دے رہے ہیں وہ اس سے قبل بھی بمباری کی زد میں آ چکے ہیں۔
16
