اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مندوب عاصم افتخار احمد نے اس ہفتے سعودی عرب کے خلاف ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی اور مملکت کی علاقائی خودمختاری کے لیے حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس کے حقِ دفاع کی تائید کی ہے۔
جمعرات کو یمن کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا، “پاکستان شہری اور اقتصادی اہداف کے خلاف حوثیوں کے ناپسندیدہ حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔”
نیز کہا، “یہ حملے مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں اور یمن تنازعے کے پرامن اور پائیدار حل کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جیسا کہ وزیرِ اعظم پاکستان نے زور دے کر کہا ہے کہ ‘ایسے بزدلانہ حملے معصوم جانوں کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔'”
مذکورہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے اور توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
پاکستان نے مملکت کی علاقائی خودمختاری کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور سعودی عرب کے اس حق کی “مکمل حمایت” کی ہے کہ وہ اپنے علاقے کے دفاع اور کسی بھی خطرے کے خلاف اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
متعدد محاذوں پر کشیدگی میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ یمن کی صورتِ حال ایک “انتہائی تشویشناک اور خطرناک مرحلے” میں داخل ہو چکی ہے جس میں بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازرانی کے خلاف حوثی حملے اور سعودی عرب میں شہری و اقتصادی اہداف پر حملے شامل ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ پیش رفت جس کے یمن اور وسیع تر خطے پر ممکنہ دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کشیدگی میں مزید اضافہ روکنے اور سفارت کاری کے لیے گنجائش برقرار رکھنے کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا، “اس لیے پاکستان اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں ایک ایسے جامع سیاسی عمل کی حمایت کرتا ہے جس کی قیادت اور ملکیت یمنی عوام کے پاس ہو۔”
انہوں نے حوثی باغیوں کے ہاتھوں یمن میں اقوامِ متحدہ کے 70 سے زائد اہلکاروں اور دیگر سفارتی عملے کی غیر قانونی حراست کی مذمت کی اور ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا، “پاکستان کشیدگی میں کمی، مکالمے اور ایسے جامع سیاسی تصفیے کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا جو یمن اور وسیع تر خطے میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی لا سکے۔”
نیز کہا، “ہم کونسل اور عالمی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان مقاصد کی حمایت میں متحد رہیں۔”
پاکستان نے بحران کے حل کے لیے سفارت کاری اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔
6
