راہل گاندھی کو پولیس نے حراست میں لیا
کانگریس اراکین پارلیمنٹ کو جنتر منتر کی طرف بڑھنے سے پولیس نے پوری طرح روک دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کسی بھی بس کو گول چکر سے آگے نہیں بڑھنے دیا گیا، جس کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اور کچھ دیگر اراکین پارلیمنٹ بس سے نیچے اتر گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ راہل گاندھی اور ان کے ساتھ کچھ دیگر اراکین پارلیمنٹ پیدل جنتر منتر کی طرف بڑھ رہے تھے، لیکن پولیس نے راہل گاندھی کو حراست میں لے کر انھیں آگے جانے سے روک دیا ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کئی دیگر اراکین پارلیمنٹ کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے کچھ اراکین پارلیمنٹ بشمول عمران پرتاپ گڑھی بس کی چھت پر چڑھ کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔ ایسی بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی پیدل جنتر منتر کی طرف بڑھنے کی کوشش کی اور انھیں بھی روک دیا گیا ہے۔
جنتر منتر کے راستے پر خوب ہو رہی نعرے بازی
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ کانگریس اراکین پارلیمنٹ بس میں سوار ہو کر جنتر منتر کی طرف بڑھے ہیں تاکہ وہاں دھرنا و مظاہرہ کر سکیں۔ لیکن راستے میں پولیس نے انھیں روک دیا ہے، جس کی وجہ سے اپوزیشن لیڈران و کارکنان ہنگامہ کرنے لگے ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ کو لے جا رہی بسوں کے چاروں طرف ہزاروں کی تعداد میں اپوزیشن کارکنان جمع ہیں جو ’گیانیش کا استعفیٰ لے کر رہیں گے‘ اور ’گیانیش غدار ہے‘ جیسے نعرے بلند کر رہے ہیں۔
پولیس نے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کا راستہ روکا، اب تک نہیں پہنچے جنتر منتر
انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ بس میں سوار ہو کر جنتر منتر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ان کا راستہ روک دیا ہے۔ ایک بس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی و دیگر اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ بیٹھے ہوئے ہیں، جس کی کئی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں۔ سبھی اراکین پارلیمنٹ جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں اور ہر حال میں ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
