امریکہ نے برطانیہ کے فیئرفورڈ اڈے سے B-1 بمبار طیارے واپس بلا لیے
امریکہ نے برطانیہ کی رائل ایئر فورس کے اڈے فیئرفورڈ سے اپنے تمام B-1 بمبار طیارے واپس بلا لیے ہیں۔ یہ اڈہ لندن کے شمال مغرب میں واقع ہے۔
امریکی حکام نے اتوار کو بتایا کہ یہ اقدام تنصیب کے خلاف مبینہ دہشت گردانہ منصوبوں سے متعلق سکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا۔رائل ایئر فورس فیئرفورڈ کے اڈے پر B-1 طرز کے 12 بمبار طیارے تعینات تھے۔ گزشتہ عرصے کے دوران ان طیاروں کو ایران پر امریکی فضائی حملوں میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔
پینٹاگون کی تصدیق
پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا کہ آپریشنل سکیورٹی کے تقاضوں کے باعث امریکی فوجیوں اور فوجی اثاثوں کی نقل و حرکت کی فوری طور پر تصدیق ممکن نہیں تھی، تاہم اس نے تصدیق کی کہ فیئرفورڈ اڈے پر تعینات تمام امریکی بمبار طیارے امریکہ میں واقع اپنے مرکزی اڈوں پر واپس پہنچ گئے ہیں۔
یہ بات وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کی۔پینٹاگون نے مزید کہا کہ یہ بمبار طیارے اب بھی امریکی سرزمین سے طویل فاصلے تک حملے کرنے کے لیے تیار ہیں۔دوسری جانب برطانوی وزارت دفاع نے اس فیصلے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ایران سے منسلک منصوبہ
وول اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی حکام ایران سے منسلک ایک ایسے منصوبے سے آگاہ تھے، جس میں امریکی بمبار طیاروں اور اڈے پر موجود اہلکاروں کو نشانہ بنایا جانا تھا۔
ایک اعلیٰ سطح کے امریکی عہدیدار کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی ایک شاخ نے اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے برطانوی شہریوں کو بھرتی کیا تھا۔ منصوبے میں کئی مراحل شامل تھے، جن میں حملے سے قبل اڈے کے قریب ایک علاقے میں توجہ ہٹانے کے لیے کارروائی کرنا بھی شامل تھا۔
ممکنہ حملہ ناکام بنانے کے بعد گرفتاریاں
واشنگٹن کا یہ اقدام 6 مشتبہ افراد کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا، جن پر اڈے پر ممکنہ حملے کے منصوبے میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ ایک امریکی اور ایک برطانوی عہدیدار نے بتایا کہ یہ حملہ گزشتہ اتوار کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔برطانوی حکام نے تحقیقات جاری رکھتے ہوئے تمام مشتبہ افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا۔
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے بدھ کے روز کہا کہ اس واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ’’مضبوط شواہد‘‘ موجود ہیں۔
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سازش میں ملوث افراد ’’بڑے پیمانے پر نقصان‘‘ پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس معاملے میں کسی غیر ملکی فریق کا ہاتھ ہونے کی نشاندہی کی۔ایران نے اپنے خلاف عائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے معاملے پر تہران میں برطانوی سفیر کو طلب کر لیا۔
