ہمارے ملک کو کیپٹن مچھار جیسے بہادر اور باہمت لوگوں کی ضرورت ہے: ملکارجن کھڑگے
کانگریس صدر کھڑگے نے کہا کہ ’’کیپٹن اسمت مچھار نے جس طرح بہادری دکھاتے ہوئے 180 لوگوں کی جان بچائی، وہ بے حد قابل تعریف ہے۔ پورے ملک کے لیے یہ فخر کی بات ہے۔‘‘
’فلائی دبئی‘ طیارہ کو یرغمال بنانے کی کوشش ناکام بنانے والے ہندوستانی پائلٹ کیپٹن اسمت مچھار کی پوری دنیا تعریف کر رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی کیپٹن مچھار کا دل کھول کر شکریہ ادا کر رہے ہیں اور ہندوستان میں تو ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں بھی ہو رہی ہیں۔ اس درمیان کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کیپٹن مچھار جیسے بہادر اور باہمت لوگوں کی ہمارے ملک کو ضرورت ہے۔
دراصل کچھ میڈیا اہلکاروں نے راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے سے کیپٹن مچھار کی بہادری پر ان کا رد عمل جاننا چاہا تھا۔ جواب میں کھڑگے نے کہا کہ ’’کیپٹن اسمت مچھار نے جس طرح بہادری دکھاتے ہوئے 180 لوگوں کی جان بچائی، وہ بے حد قابل تعریف ہے۔ پورے ملک کے لیے یہ فخر کی بات ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’میں ان کی اس بہادری کے لیے انھیں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہمارے ملک کو ایسے ہی بہادر اور باہمت لوگوں کی ضرورت ہے۔‘‘
اس درمیان کیپٹن مچھار کو سعودی عرب سے دبئی ایئر لفٹ کیے جانے کی خبر سامنے آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستانی پائلٹ کی حالت مستحکم ہے اور بہتر علاج کے مقصد سے دبئی ایئر لفٹ کیا گیا ہے۔ طیارہ میں جب کیپٹن مچھار پر حملہ کیا گیا تھا تو ان کی بہادری اور دیگر کچھ مسافروں کی سمجھداری کے باعث مشکل حالات پر قابو پایا گیا۔ طیارہ میں موجود آف ڈیوٹی پائلٹ نے سعودی عرب کے تبوک شہر میں طیارہ کی لینڈنگ کرائی اور بری طرح زخمی کیپٹن مچھار کو فوراً اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ بعد ازاں سعودی عرب میں ہندوستانی سفارت خانہ نے کیپٹن مچھار کی حالت مستحکم ہونے کی اطلاع دی تھی۔
موصولہ اطلاع کے مطابق کیپٹن مچھار کی فیملی دبئی میں رہتی ہے۔ دبئی واقع ہندوستانی سفارت خانہ کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں ہندوستانی سفیر ڈاکٹر دیپک متل اور قونصل جنرل ڈاکٹر ای وشنو وردھن ریڈی نے کیپٹن اسمت مچھار کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انھوں نے کنبہ کو کیپٹن کی صحت اور ان کے ٹھیک ہونے کے بارے میں بھی جانکاری دی۔ ساتھ ہی بتایا کہ سفارت خانہ اور قونصلیٹ یو اے ای کے افسران کے رابطے میں ہے تاکہ صورت حال پر نظر رکھی جا سکے۔ انھوں نے کیپٹن مچھار کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد کا بھروسہ بھی دلایا۔
