واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آج ہوگا
یہ واضح نہیں ہے آیا دونوں فریق اپنے اختلافات پر قابو پا سکیں گے یا نہیں
امریکی ویب سائٹ ’’ ایگزیوس ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا ایک اور دور آج پیر کے روز ہوگا۔ ذریعے کے مطابق قطری ثالث واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش میں اپنی بالواسطہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ آج 28 ستمبر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی صدر کے خصوصی مندوب سٹیو وٹکوف سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ ویب سائٹ نے کہا کہ یہ ابھی تک غیر واضح ہے کہ آیا دونوں فریق مذاکرات کے دوران اپنے قائم شدہ اختلافات کو دور کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ امریکہ اگلے ہفتے ایران کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور منعقد کرے گا۔ اسی تناظر میں ایران نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو “اگر وہ غیر قانونی راستے استعمال کرتے ہیں” تو خبردار کیا۔ ایران نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ سفارت کاری ہی امریکہ کے ساتھ تنازع کا واحد حل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے کو دوبارہ کھولنے اور جنگ بند کرنے کی ایرانی تجویز کو مسترد کرنے کے اعلان کے ایک دن بعد ایران کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ہمارے شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی طرف کوئی بھی قدم ان شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے۔ صرف بات چیت کا حل ہی انہیں اس دلدل سے نکال سکتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ہرمز کو کھولنا چاہتا ہے کیونکہ اس کی معیشت دم توڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا آبنائے پر مکمل کنٹرول ہے۔ ایران معاہدہ چاہتا ہے اور میں بھی معاہدہ چاہتا ہوں، لیکن ایران کی تجویز قابلِ قبول نہیں ہے۔
دوسری طرف ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرم نے اتوار کے روز کہا کہ امریکہ ایران پر نیا حملہ کر سکتا ہے جسے انہوں نے ایک بحرانی علاقائی صورتحال قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران ٹکراؤ کے لیے تیار ہے اور واشنگٹن کو زیادہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران کی طرف سے آبنائے کے انتظام کے لیے قائم کردہ اتھارٹی نے بحری جہازوں کو علاقے میں غیر قانونی راستے استعمال کرنے پر نتائج سے خبردار کیا۔ اس نے کہا کہ اس سے جہاز، مالکان، کپتان اور عملے کے لیے مالی اور جانی نقصان کے خطرات لاحق ہیں اور یہ مستقبل میں آبنائے ہرمز میں ان جہازوں کی آمدورفت کو سخت محدود کر دے گا۔
2
