پاکستان نے افغانستان میں منصوبہ بندی کے تحت محتاط فضائی حملوں کی تصدیق کردی
اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغانستان ایسے مسلح افراد کو پناہ دے رہا ہے جو اس کی سرزمین کو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پاکستانی وزارت اطلاعات نے ’ایکس‘ پر ایک بیان میں کہا کہ ’’قابل اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان کے اندر دو مقامات پر دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو انتہائی درست اور مخصوص انداز میں نشانہ بنایا گیا۔‘‘
وزارت نے ان مقامات کو ’فتنۃ الخوارج‘، ’فتنۃ الہند‘ اور ان سے وابستہ گروہوں سے منسوب کیا۔
دوسری جانب افغان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب افغانستان پر پاکستانی فضائی حملوں میں 9 شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ ان حملوں میں سے ایک جنوبی صوبے ہلمند میں کیا گیا۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ’ایکس‘ پر بتایا کہ پاکستان سے متصل مشرقی صوبوں ہلمند اور کنڑ میں ہونے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے اور تین مکانات تباہ ہوگئے۔
ہلمند کی صوبائی حکومت نے بتایا کہ حملے میں سفر گاؤں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان طالبان حکومت کے 2021 میں اقتدار میں واپس آنے کے بعد سے تعلقات میں شدید کشیدگی ہے۔ اکتوبر 2025 میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، جن میں کابل کو نشانہ بنانے والے پاکستانی حملوں کے متاثرین بھی شامل تھے۔
ان واقعات کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان زمینی سرحد تقریباً مکمل طور پر بند ہوگئی تھی۔
متعدد ثالثی کوششوں کے بعد جھڑپوں کی شدت میں کمی آئی، تاہم کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
بعد ازاں فروری کے اواخر میں یہ تنازع کھلی جنگ میں تبدیل ہوگیا، جس کے دوران قندھار اور کابل سمیت مختلف علاقوں میں نئے فضائی حملے بھی کیے گئے۔
