پاکستان: مذاکرات ناکام، عمران خان کے ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب مارچ
پاکستان میں سیاسی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے، جہاں عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کردیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد شروع ہونے والے اس مارچ سے ملک میں سیاسی بے یقینی اور کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
عمران خان کے حامی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔ تصویر: آئی این این
جیل میں بند پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ۵؍ہزار سے زائد حامیوں نے اتوار کو اسلام آباد کی جانب ’’کئی روزہ مارچ‘‘ شروع کر دیا۔ مظاہرین عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ مارچ شروع کیا گیا ہے۔ اس مارچ سے پاکستان میں جاری سیاسی بے یقینی مزید گہری ہونے کا خدشہ ہے، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب ملک کو شدت پسند حملوں میں اضافے کا بھی سامنا ہے۔ عمران خان موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کے بڑے سیاسی حریف ہیں اور۲۰۲۳ءسے بدعنوانی سمیت مختلف مقدمات میں جیل میں ہیں۔ عمران خان اور ان کی جماعت کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں۔ جیل میں ہونے کے باوجود عمران خان کے حامیوں کی بڑی تعداد ہے، جس کی وجہ سے وہ پاکستان کی ہنگامہ خیز سیاست کا مرکزی کردار بنے ہوئے ہیں۔
مظاہرین ٹرکوں، بسوں اور گاڑیوں کے قافلے میں سفر کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے روانہ ہوئے، جہاں عمران خان کی جماعت کی حکومت ہے۔ منتظمین نے اسلام آباد کی جانب بڑھتے ہوئے راستے میں رات کے قیام کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور عمران خان کے مضبوط حامی سہیل آفریدی اس مارچ کی قیادت کر رہے ہیں۔ وہ عمران خان کی بڑی تصویر والے خصوصی طور پر تیار کئے گئے کنٹینر ٹرک سے مارچ کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس تحریک کے مطالبات منوانے اور سیاسی کشیدگی کو دارالحکومت کے مرکز تک پہنچانے کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا۔
حکام نے اسلام آباد کے داخلی راستوں اور شہر کے اندر بھی کنٹینرز لگا کر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔ عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور وفاقی حکومت کے درمیان مارچ ملتوی کرنے کیلئے مذاکرات ہوئے، تاہم کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکا۔ پارٹی کے چیئرمین گوہر خان نے کہا کہ دو ادوار کے مذاکرات کے بعد بھی معاملہ جوں کا توں ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مارچ کے دوران کسی بھی جانی نقصان کی صورت میں انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
ادھر، شہباز شریف کی حکومت نے ملک کے شمال مغربی علاقوں میں پاکستانی طالبان کے حملوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے مارچ ملتوی کرنے پر زور دیا ہے۔ حکومت نے پی ٹی آئی پر پاکستانی طالبان، جنہیں تحریک طالبان پاکستان بھی کہا جاتا ہے، سے ہمدردی رکھنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کے لاکھوں حامیوں کو متحرک کرنے کے بعد ہر صورت دارالحکومت پہنچیں گے۔ مظاہرین عمران خان کی رہائی کے علاوہ انہیں اسپتال منتقل کرنے اور اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت اچھی ہے اور ان کے اہل خانہ باقاعدگی سے ان سے ملاقات کرتے ہیں، تاہم ان کا موقف ہے کہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم سے ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
بتا دیں کہ یہ مارچ پہلے۲۷؍ ستمبر کو ہونا تھا، تاہم، پارٹی لیڈروں کے مطابق حکام نے اسلام آباد جانے والے اہم راستے بند کردیئے تھے، جن میں اٹک پل بھی شامل تھا۔ یہ پل خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلوں کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔ عمران خان کے حامیوں کے ماضی کے احتجاج کئی مرتبہ پرتشدد بھی ہوچکے ہیں۔ ۲۰۲۴ءکے ایک احتجاج کے دوران سیکوریٹی اہلکاروں اور شہریوں سمیت کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سابق کرکٹ اسٹار عمران خان کو اپریل ۲۰۲۲ءمیں پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ فروری۲۰۲۴ء کے انتخابات کے بعد شہباز شریف دوبارہ وزیر اعظم بنے۔ عمران خان کی جماعت کا الزام ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کرکے اسے کامیابی سے محروم کیا گیا، تاہم حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔
