وزیراعظم پاکستان کا ایران اور امریکہ سے کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ
پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے ایران اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ دونوں ملک تحمل کا مظاہرہ کریں اور جاری کشیدگی کا خاتمہ کریں۔ انہوں نے اس امر کا اظہار جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائنز میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقات کے دوران کیا ہے۔
یہ ملاقات جمعرات کے روز نیو یارک میں ہوئی ہے۔ ملاقات کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر نے اس سلسلے میں ایک بیان بھی جاری کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان یہ کشیدگی 28 فروری سے باقاعدہ جنگ کی اس وقت صورت اختیار کر گئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طرپر ایران پر حملہ کیا تھا۔
اب آبنائے ہرمز اسی جنگی سلسلے کی سب سے بڑی وجہ نزع بنی ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی توانائی کی ضرورتوں کے لیے 20 فیصد حصہ مشرق وسطیٰ سے منتقل کیا جاتا تھا لیکن اب یہ سلسلہ بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔
پاکستان نے امریکہ و ایران کے درمیان اس جنگ میں ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے 17 جون کو 14 نکات پر مشتمل ایک مفاہمتی یادداشت ممکن بنائی تھی۔ تاہم ماہ جولائی میں امریکہ نے اس مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد روک دیا اور دوبارہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔ دو طرفہ حملے اور کارروائیاں بھی شروع کر دی گئیں۔ تب سے اب تک کشیدگی میں کمی نہیں ہوئی ہے۔ البتہ چند دنوں سے دوبارہ امکان محسوس ہو رہا ہے کہ باہمی رابطے بحال ہو رہے ہیں۔
شہباز شریف نے اس طول پکڑی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کی اور زور دیا کہ دونوں اطراف کو تحمل سے کام لیتے ہوئے سفارتی کوششوں کا حصہ بننا چاہیے تاکہ علاقے کو پائیدار امن اور استحکام نصیب ہو سکے۔
وزیر اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ اسلام آباد معاہدے پر عمل ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر اس سلسلے میں مفاہمتی کوششوں کے لیے تیار ہے۔ تاکہ خطے میں امن کے لیے مثبت کردار ادا کر سکے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اس موقع پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی اور کہا پاکستان نے اصولی سفارتکاری اور اپنی ٹھوس کوششوں کے ذریعے علاقے میں امن لانے کی کوشش کی ہے۔
ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے ‘روئٹرز’ سے بات کرتے ہوئے کہا اسی ہفتے ایرانی حکام نے امریکیوں کو نئی تجاویز بھیجی ہیں۔ تاکہ جنگی ماحول کو ختم کیا جا سکے۔ یہ تجاویز نیویارک میں ثالثوں کے ذریعے دی گئی ہیں۔
