اسرائیلی ٹارگٹ کلنگ غزہ معاہدے کے لیے خطرہ ہے: حماس
حماس کے رہنما غازی حمد نے انکشاف کیا کہ تنظیم کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق حماس کے رہنما علی العمودی اسرائیلی قاتلانہ حملے کی کوشش میں محفوظ رہے ہیں۔
حمد نے اتوار کو ’’العربیہ/الحدث‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے قاتلانہ کارروائیاں جاری رکھ کر غزہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، ان کے بقول یہ اقدامات معاہدے کے خاتمے کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ معاہدے کو بچانے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے اور اسے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ قاتلانہ کارروائیاں روک دے۔
فلیٹ پر اسرائیلی فضائی حملہ
اس دوران جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب نصف شب کے کچھ دیر بعد غزہ شہر کے مغربی علاقے میں ایک فلیٹ پر اسرائیلی فضائی حملے میں 5 فلسطینی جاں بحق ہوگئے، جن میں 4 خواتین شامل ہیں۔ سول ڈیفنس اور اسپتال نے اس کی تصدیق کی، جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس حملے میں حماس کے ایک رہنما کو نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کے الشفا میڈیکل کمپلیکس کے ایک عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ الرمال کے علاقے میں العمارت الاصالہ کے ایک فلیٹ کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد 5 جاں بحق افراد اور مختلف نوعیت کے زخموں سے متاثرہ متعدد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ جاں بحق افراد میں ماریا حافظ میشیل النجار اور ان کی والدہ میساء خضر ابو داؤد کے علاوہ یاسمین البوبو اور ان کی والدہ حلوم البوبو، جبکہ نوجوان بلال خلیل عودہ شامل ہیں۔
دوسری جانب سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بھی حملے میں 5 افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ نشانہ بنائے گئے فلیٹ کو دو میزائل براہِ راست لگنے اور آگ بھڑک اٹھنے کے باعث بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
السنوار کا ’’دائیں ہاتھ‘‘
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ہفتے کی شام اعلان کیا کہ اس نے علی العمودی کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اسے غزہ کی پٹی میں حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کا ’’دائیں ہاتھ‘‘ قرار دیا، جو 16 اکتوبر 2024 کو مارا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق علی العمودی نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی منصوبہ بندی میں بھی حصہ لیا تھا۔اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ وہ اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا حملے میں علی العمودی مارا گیا یا زخمی ہوا۔ فوج کے مطابق اسے العمودی کی ایک رہائشی عمارت میں موجودگی کا علم ہونے کے بعد نشانہ بنایا گیا۔
اکتوبر 2025
واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی ثالثی میں طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ اکتوبر 2025 میں نافذ العمل ہوا تھا۔تاہم اسرائیل غزہ میں تقریباً روزانہ فضائی، توپ خانے اور بحری حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کرنے والی حماس کے خلاف حملے جاری رکھنے اور اس وقت تک غزہ سے انخلا نہ کرنے کا عہد کیا ہے جب تک حماس اپنے ہتھیار ترک نہیں کرتی۔غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 1430 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
1
