1

فلائی دبئی طیارے کے واقعے کے پیچھے کون ہے؟یہ کہنا قبل از وقت ہے: نیتن یاہو

فلائی دبئی طیارے کے واقعے کے پیچھے کون ہے؟یہ کہنا قبل از وقت ہے: نیتن یاہو
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے واقعے پر ایک نئے تبصرے میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ تعین کرنا قبل از وقت ہے کہ اس واقعے کے پیچھے کون ہے۔
نیتن یاہو نے بدھ کے روز فاکس نیوز پر شان ہینٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل ’’ممکنہ طور پر‘‘ تحقیقات میں شامل ہو سکتا ہے۔ان کا یہ تبصرہ اس سوال کے جواب میں سامنے آیا کہ آیا اس واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی اشارہ موجود ہے۔
طیارے کو گرانے کی کوشش
بدھ کے روز اس سے قبل نیتن یاہو نے بتایا تھا کہ فلائی دبئی کی پرواز میں سوار ایک پائلٹ نے 174 مسافروں کو لے جانے والے طیارے کو گرانے کی کوشش کی۔
انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ایک پائلٹ نے اپنے ساتھی پر حملہ کیا اور بظاہر طیارے اور اس میں سوار تمام افراد کو گرانے کی کوشش کی، جبکہ طیارہ اسرائیل کے قریب پہنچ رہا تھا۔
نیتن یاہو نے بھارتی پائلٹ سمیت ماتچار کی بھی تعریف کی، جو دورانِ پرواز اپنے معاون پائلٹ کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہوئے۔
انہوں نے طیارے کے مسافروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بڑے سانحے کو رونما ہونے سے روکنے میں مدد کی۔
دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ یہ واقعہ ’’دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش‘‘ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور کا مقصد تمام مسافروں سمیت طیارے کو گرانا تھا۔
کاٹز نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چند اسرائیلی مسافروں کی بہادری کے باعث ہی اس کارروائی کو ناکام بنایا جا سکا۔ان کے مطابق مسافروں نے کاک پٹ میں داخل ہو کر اس شخص پر قابو پا لیا، جسے انہوں نے ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا، جس کے بعد طیارے کا کنٹرول دوبارہ اس اضافی عملے کے حوالے کر دیا گیا جو پرواز میں موجود تھا۔
دہشت گرد یا ذہنی طور پر معذور
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ پرواز میں 4 امریکی شہری بھی سوار تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اس واقعے کے حوالے سے نیتن یاہو سے ’’تفصیلی‘‘ گفتگو کی۔
ٹرمپ نے کہا: ایسا لگتا ہے کہ معاون پائلٹ یا تو دہشت گرد تھا یا ذہنی طور پر معذور، اس نے طیارے کے کپتان پر چاقو سے حملہ کیا۔
ادھر اسرائیلی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ طیارے کے واقعے کی تحقیقات سکیورٹی ادارے کے ساتھ مل کر کی جا رہی ہیں۔اسرائیلی حکام کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پرواز کے مسافر نئی پرواز کے ذریعے تل ابیب روانہ ہوگئے۔
دوسری جانب رائٹرز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب نے مسافروں کو فلائی دبئی کی دوسری پرواز سے روانہ کیے جانے سے قبل اسرائیلی طیارے کو اپنے ہاں اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
کمپنی کی وضاحت
دوسری جانب فلائی دبئی نے واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دبئی ایئرپورٹ سے بن گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والی پرواز FZ1073 کے کاک پٹ میں ایک ’’تلخ کلامی‘‘ ہوئی۔
کمپنی نے بتایا کہ پرواز کے عملے نے طیارے کو محفوظ بنایا، اس کا رخ تبدیل کیا اور سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں واقع تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا۔کمپنی کے مطابق تمام مسافر اور عملے کے ارکان خیریت سے ہیں اور لینڈنگ کے بعد ان کی سلامتی کی تصدیق کر لی گئی۔
واقعے سے نمٹنے اور منظور شدہ آپریشنل تقاضوں کے مطابق پرواز مکمل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔
فلائی دبئی نے مزید بتایا کہ طیارے کے عملے نے مروجہ حفاظتی ضوابط کے مطابق صورتحال سے نمٹا اور مسافروں کو کسی نقصان کے بغیر پرواز کا رخ تبدیل کرکے تبوک ایئرپورٹ پر محفوظ لینڈنگ کرائی۔
تاہم فلائی دبئی نے زور دیا کہ واقعے کی وجوہات یا محرکات کا تعین کرنا قبل از وقت ہے۔
کمپنی کے مطابق واقعے کی تمام تفصیلات ابھی مکمل طور پر معلوم نہیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ تحقیقات جاری ہیں۔
کمپنی نے کہا کہ وہ واقعے کی تفصیلات اور اسباب جاننے کے لیے تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔واضح رہے کہ تبوک ایئرپورٹ کو فلائی دبئی کی پرواز سے صبح 8 بج کر 44 منٹ پر ہنگامی کال موصول ہوئی تھی، جس میں ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی گئی۔ اس کے بعد ہنگامی کارروائیاں فعال کرتے ہوئے مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری انتظامات کیے گئے۔ بعد ازاں بتایا گیا کہ ایک متبادل طیارے کے ذریعے مسافروں کو ان کی آخری منزل تک پہنچا دیا گیا۔
ادھر نیتن یاہو کے دفتر کے ایک ترجمان نے بتایا کہ نیتن یاہو نے اسرائیلی اور غیر اسرائیلی ایئرلائنز کے طیاروں میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں