1

روبیو نے مذاکرات میں تعطل کے بعد ایرانی وفد سے امریکہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا

روبیو نے مذاکرات میں تعطل کے بعد ایرانی وفد سے امریکہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ایرانی وفد سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر امریکہ چھوڑ دے۔

امریکی عہدیدار اور معاملے سے باخبر ایک اور ذرائع نے بدھ کے روز ویب سائٹ ’’ایکسِیوس‘‘ کو یہ انکشاف کیا۔ یہ مطالبہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے بعد کیا گیا۔

امریکی عہدیدار نے بتایا کہ روبیو نے ایرانی وفد سے امریکہ چھوڑنے کا مطالبہ اس وقت کیا جب اس کے قیام کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ختم ہو چکا ہے، لہٰذا اب ان کے جانے کا وقت ہے۔

غیر معمولی سفارتی سرزنش

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی، جب قطری ثالثوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کی کوشش کی، تاہم دونوں فریقوں کی جانب سے اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہنے اور رعایت دینے سے انکار کے باعث صرف محدود پیش رفت ہو سکی۔

روبیو کی جانب سے ایرانی وفد کو امریکہ چھوڑنے کا مطالبہ ایک غیر معمولی سفارتی سرزنش قرار دیا گیا، جس سے جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کی جاری کوششوں کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کے شدید فقدان کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔امریکی مطالبے میں شامل افراد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے۔

پسِ پردہ کیا ہوا؟

ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کو پیر کی صبح یہ امید تھی کہ اسی روز ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کا امکان ہے، تاہم شام تک واضح ہوگیا کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔

اس کے بعد روبیو نے اقوام متحدہ میں امریکی مشن کو ہدایت کی کہ وہ ایرانی مشن کو آگاہ کرے کہ عراقچی کی سربراہی میں ایرانی وفد فوری طور پر نیویارک چھوڑ دے۔

امریکی عہدیدار کے مطابق یہ ہدایت روبیو کی جانب سے دی گئی تھی۔چند گھنٹے بعد عراقچی سمیت ایرانی وفد کے ارکان ایئرپورٹ روانہ ہوگئے اور منگل کی صبح ایک بج کر 20 منٹ پر نیویارک سے دوحہ کے لیے پرواز میں سوار ہوئے۔ایک دوسرے ذرائع نے بھی تصدیق کی کہ امریکہ نے ایرانی وفد سے ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔

23 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران عباس عراقچی (رائٹرز)
23 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران عباس عراقچی (رائٹرز)
انہیں بمباری کا نشانہ بنائیں گے یا معاہدہ کریں گے

دوسری جانب علاقائی ذرائع نے بتایا کہ قطری ثالث امریکہ اور ایران کے درمیان درمیانی راستے کی ایک تجویز کے حوالے سے دونوں فریقوں سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تجویز کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کی خلیج کم کرنا اور مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں ایک ایسے نظام کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے طریقہ کار سے متعلق سوال کے جواب میں، جسے وہ ’’پاگل‘‘ قرار دیتے ہیں، کہا: شاید میں ان پر بمباری کروں، اور ممکن ہے کہ میں واقعی ایسا کر دوں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ یا تو ہم ان پر بمباری کریں گے یا معاہدہ کریں گے۔ لیکن وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور بہت جلد کسی نہ کسی طریقے سے اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں