1

آواز دبانا مشکل، احتجاج کوروکنا محال، دہلی پولیس کا بُرا حال

آواز دبانا مشکل، احتجاج کوروکنا محال، دہلی پولیس کا بُرا حال
نیہابورا کی ٹیم، یوتھ کانگریس ، ’آپ‘ مظاہرین اور ’سٹیزن مارچ ‘کو جنتر منتر پہنچنے سے روکنے میں دانتوں تلے پسینہ آگیا، پولیس پر خاتون مظاہرین اور صحافیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنےکا الزام،برہمی میں اضافہ۔

حتجاج کے دوران مظاہرین کے جوش وخروش کو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: پی ٹی آئی
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی من مانیوں ، ایس آئی آر اور ووٹ چوری کے خلاف آوازدبانا اور احتجاجی مظاہروں کو روکنا دہلی پولیس کیلئے اب ناممکن ہوتا جارہاہے۔ نیہابورا کی قیادت میں آئیسا نے، این ایس یو آئی (کانگریس کی طلبہ تنظیم) کو ساتھ لے کر انڈین یوتھ کانگریس نے، عام آدمی پارٹی کے کارکنوں اور ’سٹیزن مارچ‘ کے تحت نکلنےوالے عام شہریوں کو اتوار کو جنتر منتر تک پہنچنے سے روکنے میں دہلی پولیس کو دانتوں تلے پسینہ آگیا۔ اس دوران پولیس نے جو جابرانہ طرز عمل اختیار کیا اور خاتون مظاہرین اور صحافیوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ روا رکھا، اس نے اسے پورے ملک اور عالمی سطح پر شرمسار کردیا ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ دہلی پولیس کی یہ حرکتیں جس طرح سوشل میڈیا کے توسط سے ملک بھر میں پھیل رہی ہیں، اس کی وجہ سے مظاہروں کو ویسی ہی تقویت حاصل ہوسکتی ہے جیسی تقویت ۲۰؍ جولائی کے لاٹھی چارج کے بعد دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی تحریک کو حاصل ہوئی تھی۔

اتوار کو دہلی میں گیانیش کمار کے استعفیٰ کیلئے مظاہرہ کا لگاتار تیسرا دن تھا۔ ایک طرف جہاں پولیس تھکی ہوئی نظر آرہی تھی وہیں مظاہرین پہلے سے زیادہ تر وتازہ اور پُرزور نظر آئے۔ اتوار کو ایک طرف جہاں کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کو ساتھ لے کر یوتھ کانگریس نے انڈیا گیٹ سے جنتر منتر مارچ کیا وہیں ’’سٹیزن مارچ‘ کے بینر تلے عام شہریوں نے بھی مارچ کیا جبکہ نیہا بورا کی قیادت میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (آئیسا) کے کارکنان نے اشوکا روڈ پر واقع آندھرا بھون سرکل سے جنتر منتر کی جانب مارچ کیا۔ عام آدمی پارٹی نے بھی انڈیا گیٹ کے قریب احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا اور کئی مقامات پر بیریکیڈ لگا کر مارچ کو روکنے کی کوشش کی۔ آئیسا کے کارکنان جب آندھرا بھون سرکل سے جنتر منتر کی جانب بڑھنے لگے تو پولیس نے انہیں بیریکیڈ کے ذریعے روک دیا۔

اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان مختصر جھڑپ بھی ہوئی۔ مظاہرین ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ کی نظرثانی، انتخابی عمل میں شفافیت اور الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے مطالبہ کر رہے تھے۔ اسی دوران آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا شام ۵؍بجےجنتر منتر کے قریب شانگری لا ہوٹل کے پاس اشوکا روڈ سے کچھ مرد پولیس اہلکار اٹھا لے گئے۔ انہیں ایک پرائیویٹ کار میں لے جایاگیا جبکہ اہلکار سادی وردی میں تھے ۔ جس کار میں نیہا کو لے جایاگیا اس میں ایک بھی خاتون اہلکار نہیں تھی جس پر ہنگامہ مچ گیا۔ نیہار سے رابطہ بھی ٹوٹ گیا جس کے بعد آئیسا نے دہلی پولیس کمشنر کو شکایت دی۔ سپریم کورٹ کی وکیل ورندا گرور نے بھی نیہا بورا کو لے جانے کے معاملے پر تشویش ظاہر کی اور اس طرز عمل پر اعتراض کرتے ہوئے انہوں نے نیہا بورا کے بارے میں فوری معلومات کا مطالبہ کیا۔چند گھنٹوں بعدآئیسا نے اطلاع میں نیہا کو نریلا انڈسٹریل ایریا تھانے سے کا چھوڑ دیا گیا ہے ۔رہائی کے وقت ان کے پاس بیگ اور موبائل فون مونہیں تھا۔ آئیسا نے معاملے پرقانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب انڈیا گیٹ کے قریب احتجاج کے دوران آپ کے دہلی صدر سوربھ بھاردواج، رکن اسمبلی سنجیو جھا اور آپ کے متعدد کارکنان کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے ایک افسر کے مطابقا’’آپ‘ ‘ کے کم از کم۲۵؍آپ کارکنان کو حراست میں لیا گیا۔سوربھ بھاردواج نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں اس طرح اٹھایا کہ کیمروں میں ان کا چہرہ نظر نہ آئے۔ سنجیو جھا نے کہا کہ ووٹنگ کے حقوق سے متعلق خدشات کو خاموشی، دباو یا پولیس کارروائی کے بجائے شفافیت اور حقائق کے ذریعے دور کیا جانا چاہیے۔این ایس یو آئی نے بھی اپنے متعدد کارکنان کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے دہلی پولیس کی کارروائی کی مذمت کی۔ تنظیم نے کہا کہ ووٹ کے تحفظ، جمہوریت اور انتخابی نظام میں جواب دہی کے مطالبے کو لے کر آواز اٹھانے والے کارکنان کو حراست میں لینے سے ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

خاتون صحافیوں اور مظاہرین کے ساتھ زیادتی، رات بھر احتجاج، بالآخر جانچ کا حکم

دہلی پولیس پر الزام عائد ہوا ہے کہ جنتر منتر پر خاتون مظاہرین اور احتجاج کی خبر نگاری کرنےوالی خاتون صحافیوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کا رویہ اور نامناسب سلوک کیاگیا۔ اس ویڈیو بھی منظر عام پر آیا ہے جس کے بعد سنیچر کو دیر تک صحافیوں، وکلا اور دیگر افراد نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا اور خاطی پولیس افسر کے خلاف ایف آئی اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس کی جانب سے ۳؍خاتون صحافیوں کی شکایات موصول ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جنہیں غیر جانب دارانہ تحقیقات کیلئےکرائم برانچ، کمال مارکیٹ منتقل کردیا گیا ہے۔خاتون صحافی کا الزام ہے کہ ایک اے سی پی نے ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا اور غلط طریقے سے چھوا نیز دھکا دیا۔ صحافی کا کہنا ہے کہ وہ شکایت درج کرانے کیلئے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پہنچیں، لیکن کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ اس ضمن میں کئی ویڈیوز گشت کررہے ہیں جن میں مرد پولیس اہلکار خاتون مظاہرین کو حراست میں لے رہے ہیں۔ایک ویڈیو خاتون صحافی کے ساتھ بدسلوکی کا بھی سامنے آیا ہے۔

بدھ، ۷؍ اکتوبر کو اپوزیشن کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج

انڈیا اتحاد میں شامل پارٹوں کی دہلی اکائیاں بدھ ۷؍ اکتوبر دہلی الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر مشترکہ احتجاج کریں گی۔ اس دوران ایس آئی آر کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ہی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ہلی کانگریس نے اتواراس کی اطلاع دی اور بتایا کہ یہ فیصلہ کانگریس، سی پی آئی، سی پی ایم ، آر جے ڈی اور دیگر کی مشترکہ میٹنگ میں کیاگیا۔ اس سے قبل منگل کو اپوزیشن ایم پی الیکشن کمیشن کے صدردفتر تک مارچ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں