گوگل کے نئے نقشوں سے غزہ کا المیہ بے نقاب … اسرائیل نے غلطی سے نقشے جاری کر دیے
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار : غزہ میں 134 ہزار عمارتیں مکمل تباہ اور 328 ہزار سے زائد رہائشی یونٹوں کو نقصان پہنچنے کا انکشاف
گوگل کی نقشوں سے متعلق سروس “گوگل میپس” پر حال ہی میں جاری ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کی تباہ کاریوں کے حجم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان تصاویر میں پورے کے پورے رہائشی محلے غائب اور وسیع شہری علاقے ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود متاثرہ عمارتیں اب بھی اپنے مکینوں پر گر رہی ہیں۔
انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق تازہ ترین اپ ڈیٹس نے اس خطے کے شہری منظر نامے میں بنیادی تبدیلی کو ظاہر کیا ہے۔ تباہی صرف انفرادی عمارتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے پورے کے پورے رہائشی کمپلیکسوں کو مٹا ڈالا ہے، جس سے ان مقامات پر خالی جگہیں بن گئی ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک آبادی سے بھرپور تھے۔ تصاویر نے محلے اور رہائشی بلاکوں کا تفصیلی منظر فراہم کیا ہے، جس سے غزہ کے موجودہ روپ اور جنگ سے پہلے کی حالت کا موازنہ کرنا آسان ہو گیا ہے۔
ایک اسرائیلی غلطی نے تباہی کے حجم کو آشکار کر دیا
اسی ضمن میں اسرائیلی سرکاری نقشہ جات کی آفیشل ویب سائٹ (govmap.gov.il) کے تازہ ترین اپ ڈیٹ نے شمالی غزہ کے علاقے کی انتہائی واضح فضائی تصاویر بغیر کسی معمول کی سنسر شپ اور دھندلاہٹ کے بغیر ظاہر کر دیں۔ اس کے نتیجے میں بفر زون کے اندر اسرائیلی فوج کے 11 فوجی اڈوں اور تنصیبات کے مقامات بے نقاب ہو گئے۔
انگریزی اخبار “دی ٹائمز آف اسرائیل” کے مطابق 2025 کے لیے جاری ہونے والی یہ تصاویر اسرائیلی حکام کی عام طور پر نافذ کردہ سکیورٹی پالیسی کے برعکس ہیں، جو غزہ اور حساس فوجی اڈوں کے فضائی نقشوں کو دھندلا یا چھپا کر رکھتی ہے۔ اس سنسرشپ کے خاتمے سے پہلی بار شمالی غزہ کی انتہائی واضح تصاویر سامنے آئیں جن میں فلسطینی شہروں میں ہونے والی ہول ناک تباہی اور فوج کی نقل و حرکت صاف نظر آرہی ہے۔ اس سے اس خاص خطے کے لیے دیگر عالمی پلیٹ فارموں کی طرف سے فراہم کردہ ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر کی کمی پوری ہو گئی۔
تاہم اوپن سورس انٹیلی جنس اکاؤنٹس کی جانب سے معاملہ کھلنے کے بعد اسرائیلی حکام نے فوراً تصاویر کو ہٹا کر دوبارہ سنسرشپ نافذ کر دی تاکہ اس ہائی ریزولوشن ڈیٹا کو فوجی نقل و حرکت اور اڈوں کا پیچھا کرنے کے لیے استعمال کرنے سے روکا جا سکے، جن پر عام طور پر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پابندی ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کی جانب سے کیے گئے ایک جائزے کے مطابق 16 جون 2026 تک پٹی میں موجود کل عمارتوں کا 82 فی صد یعنی تقریباً 2 لاکھ 1 ہزار 290 عمارتیں نقصان کا شکار ہو چکی ہیں۔
جائزے میں واضح کیا گیا کہ اس مجموعی تعداد میں 1 لاکھ 34 ہزار 422 عمارتیں مکمل طور پر تباہ، 13 ہزار 848 تنصیبات کو شدید نقصان، 28 ہزار 96 عمارتوں کو درمیانہ نقصان پہنچا، جبکہ 24 ہزار 924 تنصیبات کے بارے میں خیال ہے کہ وہ بھی متاثر ہوئی ہیں۔ اسی جائزے کے مطابق تقریباً 3 لاکھ 28 ہزار 627 رہائشی یونٹوں کو نقصان پہنچا۔
اسی تناظر میں فروری میں مناسب رہائش کے حق سے متعلق اقوام متحدہ کی اسپیشل رپورٹر کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ لگ بھگ دو سال کے دوران غزہ کی پٹی پر 200 ہزار ٹن سے زائد بارود برسایا گیا۔
یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود تباہی کے اثرات اب بھی فلسطینیوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ معاہدہ نافذ العمل ہونے کے بعد سے درجنوں متاثرہ عمارتیں اپنے رہنے والوں کے سروں پر گر چکی ہیں۔
خطرہ اب صرف ان عمارتوں تک محدود نہیں رہا جو مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، بلکہ حملوں نے ہزاروں عمارتوں کو شگاف زدہ یا شدید نقصان کی حالت میں چھوڑ دیا ہے، جس سے ان کے گرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، بالخصوص جب وہ بارش، ہوا اور موسمی تبدیلیوں کی زد میں آتی ہیں۔
تین سال قبل 8 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 75 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ کی پٹی کا تقریباً 90 فی صد بنیادی ڈھانچہ تباہ یا نقصان سے دوچار ہو چکا ہے۔
1
