پاکستان افغانستان میں جنگجوؤں کے مراکز کو نشانہ بناتا رہے گا
پاکستان نے دہشت گردانہ حملوں اور کارروائیوں کے توڑ کے لیے اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان دہشت گردوں کے افغانستان میں موجود ٹھکانوں اور مراکز کو پاکستان نشانہ بناتا رہے گا۔ پاکستان کی طرف سے اس موقف کا اعادہ پیر کے روز کیا گیا ہے۔
پاکستان کی طرف سے اپنے اس موقف کو دہرایا گیا کہ پاکستان کے اندر جاری دہشت گردانہ کارروائیوں سے اپنے دفاع کے لیے پاکستان کو جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں کرنے کا جائز حق حاصل ہے۔ کہ پاکستان کے یہ اقدامات اور کارروائیاں اس کا دفاعی حق ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات غیر معمولی طور پر خراب ہو گئے ہیں۔ اس خرابی کی وجہ پاکستان میں مسلسل دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ دہشت گرد افغانستان میں محفوظ ٹھکانے رکھتے ہیں۔ اس لیے انہیں افغانستان کے اندر بھی نشانہ بنایا جانا پاکستان کا جائز حق ہے۔
دوسری جانب کابل ان دہشت گردوں کو افغانستان سے نکالنے کی یا ان کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوئی ضمانت دینے کو تیار نہیں ہے۔ بلکہ اسے پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ حملے روکنا پاکستان کی اپنی ذمہ داری ہے۔
افغانستان میں پاکستان کے سفیر محمد صادق نے ماسکو میں ہونے والے 8ویں اجلاس کے دوران خطاب میں کہا ‘پاکستان اپنے دفاع کی خاطر دہشت گردوں کے خلاف مناسب اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رکھے گا۔ تاکہ اپنے شہریوں کا تحفظ کر سکے۔’
