ٹرمپ: یمن میں حوثیوں کے خلاف مہم ’بہت کامیاب‘ رہے گی
یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی مہم “بہت کامیاب” رہے گی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا۔
وائٹ ہاؤس کے باہر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ تبصرہ ایسے وقت میں کیا جب یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے مطابق یمن نے آپریشن فجر الیمن کا آغاز کیا ہے۔ یہ فوجی کارروائی ریاستی اداروں کی بحالی، دارالحکومت صنعاء کی آزادی اور حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے بغاوت کا خاتمہ کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔
ملک کے مقبوضہ علاقے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے شروع کردہ اس نئے آپریشن کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے جواب دیا، “یہ بہت کامیاب ثابت ہو گا۔”
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پیر کے روز کہا تھا کہ سعودی زیرِ قیادت اتحاد کی حمایت سے چلنے والی اس مہم کی توقع تھی۔
روبیو نے نامہ نگاروں کو بتایا، “امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی معاہدہ ہے اور ہم اس کی پاسداری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جہاں تک اس معاملے پر ہمارے نکتۂ نظر کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ سعودی اور یمنی افواج واضح طور پر اس بات کے حق میں نہیں ہیں کہ حوثی آبنائے کے قریبی علاقے پر قابض رہیں۔ اور یہ وہ علاقہ ہے جو حوثی حملوں کے نتیجے میں حاصل کیا گیا اور یہ اسی کا جوابی اقدام ہے۔ ہمیں توقع تھی کہ ایسا ہو گا اور اب یہی ہو رہا ہے۔”
نیز کہا، “تو ظاہر ہے کہ سعودی عرب کو حوثی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ اس سے لاحق خطرے کو سمجھتے ہیں اور انہیں اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یمنی افواج اس علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کریں گی جہاں سے انہیں بے دخل کر دیا گیا تھا۔”
