1

فیصلہ کن انتخابات سے قبل اسرائیل میں 7 اکتوبر کے واقعے کی تیسری برسی منائی جا رہی ہے

اسرائیل میں آج بدھ کے روز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کی تیسری برسی منائی جا رہی ہے۔ یہ دن ایسے وقت میں آیا ہے، جب ملک میں انتخابات ہونے والے ہیں اور ان پر اس خونریز ترین واقعے کے اثرات نمایاں ہیں۔

حماس کے ان جنگجوؤں نے غزہ سے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، جس کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے آج دن بھر مختلف تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

فرانسیسی پریس کے اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں 1221 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی روز 251 افراد کو اغوا کرکے زبردستی غزہ منتقل کیا گیا، جن میں سے 44 بعد میں ہلاک ہو گئے تھے۔

حملے کے دوران حماس کے مسلح افراد نے گاڑیوں اور پیرا گلائیڈرز کے ذریعے نووا میوزک فیسٹیول کے مقام پر بھی دھاوا بولا تھا۔ آج وہاں متاثرین کے رشتہ داروں نے صبح 6 بج کر 27 منٹ پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی، جو حملے کے آغاز کا عین وقت تھا۔

فرانسیسی پریس کے صحافیوں کے مطابق اس حملے میں میوزک فیسٹیول میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ متاثرین کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی تصاویر کے سامنے پھولوں کے گلدستے بھی رکھے۔

جنگ بندی کے بعد پہلی بار

ایک پولیس اہلکار نے ہلاک ہونے والے اپنے ساتھیوں کی تصاویر دیکھتے ہوئے کہا:یہ ہمارے ہیرو ہیں، اسرائیل کے عظیم ترین بیٹے ہیں۔

اسی طرح غزہ کی سرحد کے قریب واقع کفار عَزہ کِبُوتس میں بھی ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جہاں 64 افراد ہلاک اور 18 دیگر کو اغوا کیا گیا تھا۔ دیگر مقامات پر بھی یادگاری تقریبات منعقد کی گئیں، جبکہ شام کو تل ابیب میں متاثرین کے خاندانوں کی جانب سے ایک تقریب بھی منعقد کی گئی۔انتخابی مہم کے ساتھ ساتھ ہونے والی اس سال کی یادگاری تقریبات کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ گزشتہ سال غزہ میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد یہ 7 اکتوبر کے حملے کی پہلی برسی ہے۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد غزہ میں جنگ شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں غزہ بڑے پیمانے پر تباہ ہوگیا۔

سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ جو موجودہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو حملہ روکنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، نے نووا میں منعقدہ یادگاری تقریب میں شرکت کی۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:یہ ریاست اسرائیل کی ایک تباہ کن ناکامی تھی، جسے ہماری سرزمین میں یہودیوں کے دفاع کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا:لیکن ان چند منٹوں کے دوران اسرائیل بھر سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں لڑنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، اپنے بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت اور جانیں بچانے کے لیے میدان میں آگئے، اور ہیروز کی ایک نسل نے جنم لیا۔ ہم اس غیر معمولی نسل کے مقروض ہیں کہ اپنے ملک کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور بہتر بنائیں۔

پیر کے روز بھی اسرائیلی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تاریخ کے مطابق عبرانی کیلنڈر کے تحت سرکاری یادگاری تقریب منعقد کی گئی۔
سکیورٹی اقدامات میں اضافہ

7 اکتوبر کے حملے کے بعد ہونے والی پہلی پارلیمانی انتخابات سے تین ہفتے قبل یادگاری تقریبات سخت سکیورٹی کے حصار میں منعقد کی جا رہی ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں ہے جب تل ابیب جانے والی فلاي دبئی کی پرواز میں حملے کی کوشش کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے منگل کے روز فوج کو چوکس رہنے کے احکامات دیے۔ انہوں نے حماس کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں پر ممکنہ حملوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ دیا۔
7 اکتوبر کے حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں غزہ کے بیشتر علاقے کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے۔ غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق ان حملوں میں 74 ہزار 200 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد قرار دیتا ہے۔اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز بھی غزہ پر نئے فضائی حملے کیے۔ سرحد کے قریب نووا میوزک فیسٹیول کے متاثرین کی یاد میں منعقدہ تقریب میں موجود فرانس پریس کے صحافی نے بتایا کہ فلسطینی علاقے کی جانب سے شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ غزہ شہر کے الشفا اسپتال نے بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہونے والے حملوں میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

2023 سے گزشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیل نے کئی محاذوں پر جنگ لڑی، جن میں خاص طور پر ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف لبنان کا محاذ اور براہِ راست ایران کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔

غزہ میں امریکی سرپرستی میں مذاکرات کے نتیجے میں گزشتہ اکتوبر نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود انسانی صورتحال بدستور انتہائی سنگین ہے۔ اب بھی لاکھوں فلسطینی خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

غزہ کے سیاسی مستقبل کے بارے میں اب بھی صورت حال واضح نہیں، تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کے روز ایک بار پھر کہا کہ حماس دوبارہ غزہ پر حکومت نہیں کرے گی۔

انہوں نے 7 اکتوبر کے حملے میں ملوث یا یرغمالیوں کو حراست میں رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کی دھمکی بھی دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں