ایس آئی آر سے۱۵؍فیصد ووٹروں کا نام ہٹانا جمہوریت کیلئے تشویشناک
سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے یہ بھی کہا کہ ایس آئی آر کے عمل سے کسی خاص کمیونٹی کو نشانہ نہیں بنانا چاہئے۔
ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے کے بعد ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں لوک سبھا انتخاب ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ووٹرز کی تعداد میں تقریباً ۷ء۱۵؍کی کمی کو گھوٹالہ قرار دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ۱۷؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جہاں تیسرے مرحلے کا ڈرافٹ شائع کیا گیا ہے وہاں ۲۰۲۴ءکے لوک سبھا انتخابات کے مقابلے میں ووٹروں کی تعداد میں تقریباً ۱۵؍فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے ووٹروں کی تعداد میں بھاری کمی کے حوالے سے ایس آئی آر کے عمل پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کو مصنوعی طریقے سے ہٹانا جمہوریت کیلئے انتہائی تشویشناک ہے۔ قریشی نے کہا’’مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک اسکیم ہے۔‘ ‘ قریشی نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا عمل کسی خاص کمیونٹی کو نشانہ بنانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ادیشہ لٹریری فیسٹول سے خطاب کرتے ہوئے ایس وائی قریشی نے کہا کہ ایس آئی آر کا استعمال مسلمانوں کو ’بنگلہ دیشی درانداز‘ بتاکر ووٹر لسٹ سے باہر کرنے کے لیے نہیں کیا جانا چاہیے۔
ووٹ آئینی حق احسان نہیں
ایس وائی قریشی نے کہا کہ ووٹ دینا آئینی حق ہے اور اسے کسی احسان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ہندوستان کی شناخت ہمیشہ ایک سیکولر ملک کی رہی ہے اور اس بنیادی جذبے کی حفاظت ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کے مسودہ کے اعداد و شمار کے مطابق ۱۷؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جہاں ایس آئی آر کا تیسرا مرحلہ مکمل ہوا ہے وہاں لوک سبھا ۲۰۲۴ءکے وقت کل۵۰ء۳۵؍ کروڑ لاکھ ووٹر تھے،لیکن اب ڈرافٹ لسٹ میں یہ تعداد کم ہوکر تقریباً ۹۳ء۲۹؍رہ گئی ہے۔
3
