1

الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات پر کھڑگے کے سوالات، چیف الیکشن کمشنر پر لگایا نشانہ

الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات پر کھڑگے کے سوالات، چیف الیکشن کمشنر پر لگایا نشانہ
ملکارجن کھڑگے نے الیکشن کمیشن میں دو کمشنروں کی جانب سے 14 مرتبہ اعتراضات کا حوالہ دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سوالات اٹھائے اور برطرفی کی زیرالتوا تحریک پر فیصلے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الیکشن کمیشن کے کام کاج اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے راجیہ سبھا کے چیئرمین سے مطالبہ کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق اپوزیشن کی زیرالتوا تحریک پر فیصلہ کیا جائے۔ کھڑگے نے یہ بات بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہی۔

کھڑگے نے کہا کہ کانگریس اور کئی اپوزیشن جماعتیں گزشتہ کئی برسوں سے ملک میں ہونے والے انتخابات کی غیر جانب داری پر سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے انتخابی کمیشن کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے تو انہیں نظرانداز کیا گیا اور کمیشن تک رسائی بھی محدود رہی۔

کانگریس صدر نے ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تین ارکان میں سے دو، الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ کمیشن کے بعض فیصلوں اور اقدامات پر تحریری اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں ووٹر رجسٹریشن، ناموں کے اخراج، فارم 6 میں تبدیلی، انتخابی ڈیٹا بیس کی مرکزیت اور ووٹر فہرستوں سے متعلق دیگر امور شامل تھے۔

کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ ان اعتراضات میں فارم 6 کے مبینہ غلط استعمال، سافٹ ویئر اور انتخابی ڈیٹا کے انتظام سے متعلق خدشات بھی شامل تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان اعتراضات پر کیا کارروائی کی۔

تاہم الیکشن کمیشن نے اندرونی اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کے ارکان کی جانب سے ابتدائی مراحل میں سوالات، تجاویز یا مختلف آرا پیش کرنا معمول کے انتظامی عمل کا حصہ ہے۔ کمیشن کے مطابق ایس آئی آر سمیت تمام حتمی فیصلے تینوں کمشنروں کی منظوری سے متفقہ طور پر کیے گئے۔

کھڑگے نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے تین مراحل میں 31 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی مسودہ انتخابی فہرستوں سے 13.8 کروڑ نام باہر کیے گئے ہیں۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق ایس آئی آر کے تحت 30 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی مسودہ فہرستوں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام ہٹائے گئے ہیں۔

کانگریس صدر نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ’ووٹ چوری‘ اور ایس آئی آر سے متعلق جو سوالات اٹھائے تھے، موجودہ پیش رفت نے انہیں مزید اہم بنا دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ معاملہ صرف ووٹر فہرستوں تک محدود نہیں بلکہ انتخابی ادارے کی آزادی اور غیر جانب داری سے بھی متعلق ہے۔

کھڑگے نے مزید کہا کہ 24 اپریل 2026 کو اپوزیشن کے 73 راجیہ سبھا ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سیکریٹری جنرل کو تحریک کا نوٹس دیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ چونکہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس اب تک برخاست نہیں کیا گیا، کیا راجیہ سبھا کے چیئرمین اس زیرالتوا نوٹس پر فیصلہ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں