ٹرمپ کے دعوے کے برعکس، ایران کا امریکہ سے مذاکرات سے انکار
ایران
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہا، تاہم آبنائے ہرمز سے عارضی محفوظ راستہ قائم کرنے کے معاملے پر عمان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ بقائی نے کہا کہ عمان کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جانا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کافی نہیں ہوگا، کیونکہ جب تک امریکی جارحیت جاری رہے گی، صورتحال برقرار رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ عمان کے ساتھ زیر بحث نیا بحری راستہ ایک ہی راستہ ہوگا، جس میں آمد اور روانگی کے لیے الگ گزرگاہیں شامل ہوں گی۔ ایرانی ترجمان کے مطابق یہ مذاکرات دونوں ساحلی ممالک یعنی ایران اور عمان کے درمیان دوطرفہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک یقیناً اس عمل میں تعمیری یا منفی کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن اصل معاملہ ایران اور عمان کے درمیان ہے، جبکہ اگلے مرحلے میں کیا ہوگا، اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ بقائی نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے راستے پر اتفاق اور بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اس آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری شرط ہے، تاہم یہ واحد شرط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے بند نہیں ہوا، بلکہ ان کے بقول فروری 2026 سے امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث یہ مسئلہ پیدا ہوا۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے بقائی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں نہ کسی امریکی وفد کی میزبانی کا منصوبہ ہے اور نہ ہی ایران کسی دوسرے ملک میں وفد بھیجنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور چین سمیت کسی نئے ثالث کو شامل نہیں کیا گیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ قطر ضرورت پڑنے پر مدد فراہم کرتا ہے۔ بقائی نے چین کے ساتھ ایران کے مضبوط تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور بیجنگ امریکہ کی ”تباہ کن اور جارحانہ یکطرفہ پالیسیوں” پر تشویش میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کی توجہ بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت بحال کرنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ختم کرنے پر ہوگی۔ امریکی خبر رساں ادارے نے مزید بتایا کہ مذاکرات میں خطے میں تمام حملے روکنے کا معاملہ بھی شامل ہوگا، جن میں عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے حملے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی تیل کی برآمدات کو بغیر کسی رکاوٹ کے دوبارہ شروع کرنے پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے وہ ممالک جو ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، آنے والے دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے ساتھ اپنے رابطے مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مرحلے پر ممکن ہے کہ دونوں فریق 18 جون کو دستخط کی جانے والی مفاہمتی یادداشت کے بنیادی نکات کی طرف واپس لوٹیں۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے پیر کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی دوبارہ توثیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج بدستور ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر حملہ مؤخر کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے سے امریکی فوجی تیاری متاثر نہیں ہوئی۔ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وزارتِ جنگ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے نہ دیکھی جانے والی سطح کی تیاری برقرار رکھے ہوئے ہے اور امریکی فوج مکمل طور پر تیار ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق جاری مذاکرات آخری مراحل میں پہنچ گئے ہیں اور معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔ عراقچی نے ٹیلیگرام پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے ایرانی کابینہ کے اجلاس میں عمان کے ساتھ مذاکرات کی تازہ صورتحال پر رپورٹ پیش کی، جس میں بات چیت میں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور جلد مکمل ہونے کے قریب ہیں، تاہم انہوں نے معاہدے کی نوعیت یا اعلان کی تاریخ کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
5
