5

تہران مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی کشیدگی پر بات ہوگی:امریکی میڈیا کا دعویٰ

ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی دوبارہ بحال کرنا، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ختم کرنا اور سمندری راستوں کو کھولنا ہوگی۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مذاکرات میں خطے میں تمام حملے روکنے کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا، جن میں عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے حملے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی تیل کی برآمدات کو بغیر رکاوٹ دوبارہ شروع کرنے پر بھی بات چیت ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے وہ ممالک جو ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، آنے والے دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے ساتھ اپنے رابطے مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امکان ہے کہ دونوں فریق 18 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بنیادی نکات کی طرف دوبارہ واپس آ سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران 3 اگست کو امن معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کریں گے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ انہوں نے ایران پر بڑے حملے کا فیصلہ منسوخ کر دیا ہے تاکہ تہران کے ساتھ معاہدہ طے کیا جا سکے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ کے اتحادی ممالک اور ایران نے واشنگٹن سے حملہ روکنے کی درخواست کی، کیونکہ دونوں فریق ممکنہ معاہدے کے بنیادی خدوخال طے کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔ ٹرمپ نے فروری کے آخر میں اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی ایران جنگ میں کئی بار کشیدگی بڑھانے کی دھمکیاں دی تھیں، تاہم مذاکرات کے لیے وقت دینے کی غرض سے ان کے موقف میں نرمی آئی۔ حالیہ کشیدگی نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو شدید متاثر کیا، جہاں جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔ اس صورتحال کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور عالمی سطح پر مہنگائی مزید بڑھی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ان کی ترجیح ہے، تاہم ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور معاشی دباؤ نے انہیں تنازع ختم کرنے کے لیے راستہ تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں