6

امریکی فوج نے ایران کے خام تیل سے بھرے 5 ٹینکر تباہ کر دیے: سینٹ کام کا اعلان

امریکی فوج نے ایران کے خام تیل سے بھرے 5 ٹینکر تباہ کر دیے: سینٹ کام کا اعلان
امریکی فوج نے منگل کی شام اعلان کیا کہ 8 ستمبر کو ایرانی تیل بردار پانچ ٹینکروں کو تباہ کر دیا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے بیان کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی ،جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے گزشتہ دو روز کے دوران امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کو دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
سینٹ کام نے بتایا کہ امریکی فوج نے خلیجِ عمان میں ایرانی تیل بردار جہازوں ”کافیز”، ”شارمینار”، ”ہورائزن 1”اور ”ریسکو” کو تباہ کیا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے ایرانی آئل ٹینکرز پاسدارانِ انقلاب کو مالی معاونت فراہم کرنے والے ایک خفیہ نیٹ ورک کے حصے کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔
امریکی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اپنے تیل بردار جہازوں کے دفاع کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔سینٹ کام نے مزید کہا کہ امریکی جنگی جہاز ایرانی حملوں سے بچنے میں کامیاب رہا اور علاقائی پانیوں میں اپنی گشت جاری رکھی۔ بیان کے مطابق کسی بھی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کی شام کہا کہ امریکہ ایرانی تیل بردار جہازوں کو جوابی حملوں کا نشانہ بناتا رہے گا۔کولمبیا کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا:ایران امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے، جب بھی وہ ایسا کرے گا یا اس کی کوشش کرے گا، اسے اپنے تیل بردار جہازوں سے محروم ہونا پڑے گا۔ میرا خیال ہے کہ آپ آج بھی ایسا دوبارہ دیکھیں گے۔
اس سے قبل ایک امریکی عہدیدار نے العربیہ اور الحدث کو بتایا تھا کہ امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک متعدد ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ امریکی عہدیدار کے مطابق یہ کارروائی امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی نئی ایرانی کوششوں کے جواب میں کی گئی۔
ایرانی خبر رساں اداروں مہر اور فارس نے منگل کی شام جنوبی ایران کے دو ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی۔ امریکی عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ ایرانی تیل بردار جہازوں کو خارک اور جاسک کے قریب نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فورسز نے منگل کی شام خارک جزیرے اور جاسک شہر کے قریب ایرانی آئل ٹینکروں کے خلاف مزید حملے کیے۔ یہ کارروائیاں ٹینکر کے بدلے ٹینکرکی پالیسی کے تحت کشیدگی میں ایک نئے اضافے کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ اس سے قبل پیر کو ایک ایرانی حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
خارک جزیرے میں دھماکےایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق خارک جزیرے کے مختلف حصوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ خارک ایران سے خام تیل کی برآمد کا ایک اہم مرکز ہے اور یہاں ملک کا مرکزی آئل ایکسپورٹ ٹرمینل بھی موجود ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے” تسنیم ”نے بتایا کہ جزیرے کے قریب ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو امریکی میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فورسز کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل جہاز کے قریب لنگر انداز ہونے کے علاقے میں جا لگا۔
تسنیم نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حملے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور ٹینکر کے عملے کو بحفاظت نکالا جا رہا ہے۔خارک کے علاوہ جنوبی ایران کے ساحلی شہر جاسک میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے” فارس” کے مطابق جاسک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ ایرانی ٹیلی ویژن نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے شہر کے قریب ایک دوسرے ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔جاسک میں ایک بندرگاہ اور تیل کی برآمد اور سمندری نقل و حمل سے متعلق تنصیبات موجود ہیں۔
خارک جزیرہ خلیج میں ایرانی ساحل کے سامنے صوبہ بوشہر کے قریب واقع ہے اور ایران کی تیل برآمدات کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران بھی جزیرے کے اطراف دھماکوں اور ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
امریکہ اور ایران نے اپریل اور جون میں دو مرتبہ جنگ بندی کے معاہدوں کا اعلان کیا تھا۔ ان معاہدوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی بحال کرنا اور تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازع کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم دونوں معاہدے جلد ہی ناکام ہوگئے۔
13 جولائی کو جنگ بندی کا معاہدہ ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کا دوبارہ محاصرہ کر دیا اور ایرانی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دیں۔امریکی اقدام کا مقصد تہران کو تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے محروم کرنا ہے، جو ایران کے لیے زرمبادلہ کا بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں