آبنائے ہرمز جلد کھول دی جائے گی، ورنہ ایران کو سخت حملے کا سامنا کرنا پڑے گا:ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز ”بہت جلد کھول دی جائے گی ”۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔
ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسے ایک سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا:ہم ایک بہت بڑے حملے کے قریب پہنچ چکے تھے، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا حملہ ہوتا، لیکن ایرانیوں نے مجھے فون کیا اور کہا: براہِ کرم، کیا ہم بات کر سکتے ہیں؟ انہوں نے مزید کہا:آبنائے ہرمز بہت جلد کھول دی جائے گی، ورنہ انہیں ایک سخت حملے کا سامنا کرنا پڑے گا، اور اس کے بعد آبنائے کھول دی جائے گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گااور کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اس حوالے سے باقاعدہ ضمانتیں شامل ہوں گی۔
وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر تہران مذاکرات سے دستبردار ہوا تو اسے سخت فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا:اگر وہ مذاکرات جاری نہیں رکھتے تو انہیں بہت سخت حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ”بہت اچھی بات چیت ”ہو رہی ہے، حالانکہ ایران بارہا واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید کر چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا:وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو یہ افسوسناک بات ہوگی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا:ہم اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہے۔ ہماری بات چیت صرف سلطنتِ عمان کے ساتھ ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایک راستہ محفوظ بنایا جا سکے۔
بقائی نے اتوار کے روز مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمان کے ساتھ زیرِ غور مفاہمت کا تعلق ایسے راستے سے ہے جو دونوں فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ یہ نہ شمالی راستہ ہوگا اور نہ جنوبی، بلکہ ایسا راستہ ہوگا جو دونوں جانب کی خودمختاری کے حقوق کا خیال رکھے گا اور ہمارے قومی مفادات اور سلامتی کو محفوظ بنائے گا۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران عملی طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو کنٹرول کر رہا ہے، جہاں جہازوں کو ایرانی رابطہ کاری کے ذریعے اور صرف اس کی ساحلی حدود کے قریب مخصوص راستے سے گزرنے کا پابند کیا گیا ہے۔
تہران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آبنائے میں بحری آمد و رفت جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں آئے گی، اور اعلان کیا ہے کہ اس راستے کو استعمال کرنے والے جہازوں سے ”سروس فیس” وصول کی جائے گی۔
دوسری جانب امریکہ ان پابندیوں کو مسترد کرتا ہے اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری نقل و حرکت کے حق پر زور دیتا ہے۔جون میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ عمل شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا مستقل خاتمہ اور متعدد معاملات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام، کا حل تلاش کرنا تھا۔
اس یادداشت کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بھی بحال ہوئی تھی، جو عالمی توانائی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
ایران نے اسے فروری کے آخر سے بند کر رکھا تھا، جبکہ امریکہ نے جواباً ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں اور محاصرہ عائد کیا تھا۔
تاہم یہ پیش رفت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ جولائی کے آغاز میں دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع ہو گئیں، جس کے باعث مفاہمتی یادداشت ناکام ہو گئی۔
امریکی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت پر مزید پابندیاں سخت کر دیں اور ایرانی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرنے والے جہاز بار بار حملوں کا نشانہ بننے لگے۔
5
