5

مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملے جاری؛ غزہ میں 300 دنوں میں 300 بچے ہلاک، یونیسیف

مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملے جاری؛ غزہ میں 300 دنوں میں 300 بچے ہلاک، یونیسیف

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے جمعرات کو کہا کہ غزہ میں گذشتہ 300 دنوں میں کم از کم 300 بچے ہلاک ہو چکے ہیں یعنی اوسطاً روزانہ ایک بچہ کیونکہ علاقے میں شہریوں کو شدید فوجی حملوں کا سامنا ہے جن میں گولہ باری، گولیاں اور بحری فائرنگ شامل ہے۔

ادارے نے مزید کہا کہ اسی عرصے کے دوران مزید سینکڑوں بچے مبینہ طور پر زخمی ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (اوچا)نے کہا، غزہ میں بچے مشکل حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں جن میں پُرہجوم پناہ گاہیں اور صاف پانی اور صحت تک محدود رسائی شامل ہیں۔

اوچا نے خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملے اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں فلسطینیوں کے گھروں اور معاش کو متأثر کر رہی ہیں۔

اسرائیلی آبادکاروں نے مبینہ طور پر الخلیل کے علاقے مسافر یطہ میں الطوبا کی فلسطینی کمیونٹی میں راتوں رات گھروں کو آگ لگا دی جس سے 14 بچوں سمیت تین خاندان بے گھر ہو گئے۔ انہوں نے رشتہ داروں یا ہمسایوں کے پاس پناہ لی۔

اوچا نے کہا کہ دو بچوں سمیت کئی لوگ زخمی ہوئے اور دیگر املاک کے ساتھ ایک سولر پاور سسٹم اور جانوروں کا 10 ٹن چارہ تباہ ہو گیا۔

سال کے آغاز اور جولائی کے اختتام کے درمیان اوچا نے 250 فلسطینی کمیونٹیز میں اسرائیلی آبادکاروں کے 1,380 سے زیادہ واقعات کی دستاویز بندی کی جن کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور املاک کو نقصان پہنچا۔ یہ روزانہ اوسطاً چھے سے سات حملے بنتے ہیں۔

اوچا نے کہا کہ اسی عرصے کے دوران آبادکاروں کے حملوں اور ان سے متعلق رسائی کی پابندیوں کے نتیجے میں 2,300 سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہوئے۔ ادارے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں نشانہ بنانے والے مجرموں کا احتساب ہونا چاہیے۔

یروشلم گورنری میں دریں اثنا قلندیا کیمپ میں اسرائیلی افواج نے وہاں ایک بڑی کارروائی شروع کی جس سے ہزاروں فلسطینی جمعرات کو مسلسل دوسرے دن بھی محصور رہے۔

اوچا نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے کارکنان علاقے تک محفوظ رسائی حاصل کرنے سے قاصر تھے جس سے رہائشیوں کی حفاظت اور ہنگامی نگہداشت حاصل کرنے اور کام کی جگہوں تک پہنچنے کی قابلیت کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔

ایران میں حکومت گرانے کا مبینہ منصوبہ ناکام، موساد سے دو سینئر افسر برطرف

اسرائیلی نشریاتی ادارے Channel 12 کی ایک رپورٹ کے مطابق موساد کے سربراہ رومن گوفمان (Roman Gofman) نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے مبینہ منصوبے کے ناکام ہونے یا عملی مرحلے تک نہ پہنچنے کے بعد دو سینئر انٹیلی جنس افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق برطرف ہونے والوں میں موساد کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اور ایران ڈویژن کے سربراہ شامل ہیں، تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل Channel 12 نے دعویٰ کیا ہے کہ موساد کے سربراہ رومن گوفمان نے ادارے کے دو اعلیٰ انٹیلی جنس افسران کو اس مبینہ منصوبے کے ناکام ہونے یا عملی مرحلے تک نہ پہنچنے کے بعد برطرف کر دیا ہے، جس کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی کی راہ ہموار کرنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق برطرف کیے گئے افسران میں موساد کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ، جنہیں چند ماہ قبل ہی اس منصب پر تعینات کیا گیا تھا، اور ادارے کے ایران ڈویژن کے سربراہ شامل ہیں۔ چینل نے دونوں افسران کے نام ظاہر نہیں کیے۔ چینل ۱۲؍ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ یہ منصوبہ امریکہ کے ساتھ قریبی رابطے میں تیار کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت اسرائیل اور امریکہ کے وسیع فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ ایران کے اندر حکومت مخالف عناصر اور اپوزیشن گروپوں کی حمایت کے ذریعے داخلی سطح پر تبدیلی لانے کی کوشش کی جانی تھی۔
چینل نے اپنی رپورٹ میں مختلف سیکوریٹی جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ یا تو ناکام ہو گیا یا پھر کبھی عملی مرحلے تک پہنچ ہی نہیں سکا۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ منصوبہ کس مرحلے پر رکا یا اس کی ناکامی کی بنیادی وجوہات کیا تھیں۔ چینل نے سیکوریٹی ذرائع کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا کہ رومن گوفمان اور دونوں سینئر افسران کے درمیان ابتدا ہی سے تعلقات کشیدہ تھے۔ ذرائع کے مطابق یہ برطرفیاں موساد میں وسیع پیمانے پر جاری تنظیمی تبدیلیوں کا حصہ ہیں، جن میں خاص طور پر ایران سے متعلق پالیسی، ترجیحات اور قیادت کو ازسرِ نو ترتیب دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بین الاقوامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ منصوبے میں ایران کی موجودہ قیادت کے متبادل انتظامات اور ممکنہ ’’پوسٹ رجیم‘‘ مرحلے کے لیے امریکی حکام کے ساتھ رابطہ کاری بھی شامل تھی۔ا سی رپورٹ کے مطابق ایک مبینہ مشترکہ Mossad-CIA منصوبے میں یہ تصور بھی شامل تھا کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حمایت کے ساتھ کرد مسلح جنگجو ایران میں داخل ہوں اور متبادل قیادت کے قیام میں کردار ادا کریں۔ تاہم چینل کے مطابق یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہی رک گیا، جس کے بعد اسے ترک کر دیا گیا اور ذمہ دار سمجھے جانے والے افسران کے خلاف کارروائی کی گئی۔
رپورٹ میں شامل ان تمام دعوؤں پر نہ تو موساد اور نہ ہی اسرائیلی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے آیا ہے۔ اسی طرح امریکی سی آئی اے یا وہائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجامننیتن یاہو نے ۱۳؍ مارچ کو ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی آسان نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا تھا: ’’یہ یقینی نہیں کہ ایسا ہوگا۔‘‘ رپورٹ کے پس منظر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیل میں مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا۔
بعد ازاں ۱۸؍ جون کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے اور جامع معاہدے کے لیے مذاکرات شروع ہوئے، تاہم آبنائے ہرمز میں سلامتی کی ضمانتوں اور جہاز رانی کی آزادی جیسے معاملات پر اختلافات کے باعث یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ کشیدگی ایک بار پھر اس وقت بڑھ گئی جب امریکہ نے ایران کے اندر نئے حملے کیے، جس کے جواب میں تہران نے اردن، بحرین اور کویت سمیت خطے کے مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں