4

واشنگٹن ایران کی معیشت کا گلا گھونٹنے کی تیاری میں، ٹرمپ کے سامنے دباؤ کے پانچ حربے

واشنگٹن ایران کی معیشت کا گلا گھونٹنے کی تیاری میں، ٹرمپ کے سامنے دباؤ کے پانچ حربے
امریکہ ایران پر غیر معمولی اقتصادی دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق واشنگٹن تہران پر اقتصادی شکنجہ مزید سخت کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ ایران پہلے ہی ہزاروں پابندیوں اور اپنی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کا سامنا کر رہا ہے۔

اگرچہ واشنگٹن نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کون سے اقدامات کرے گا، تاہم امریکی محکمہ خزانہ کے پاس ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کئی راستے موجود ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے 5 اہم آپشنز یہ ہیں:

1۔ چین کے ساتھ تعلقات اور ایرانی تیل

چین ایران کی تیل کی برآمدات کا 90 فیصد سے زیادہ خریدتا ہے۔ اس لیے ایرانی تیل کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے والے اداروں پر پابندیاں عائد کرنا تہران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کم کرنے کا براہِ راست طریقہ ہو سکتا ہے۔

امریکہ پہلے ہی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد بعض چھوٹی چینی ریفائنریوں اور ان سے منسلک کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے، تاہم اب تک بڑے چینی بینکوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا ہے۔
چینی کمپنیوں یا مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات بھی اہمیت رکھتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی تیل کی برآمدات کم ہونے سے عالمی منڈی میں سستے خام تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خطرہ ہے۔

2۔ کرنسی ایکسچینج کمپنیاں

کئی ممالک میں ایسی ایکسچینج کمپنیاں موجود ہیں جو ایران کو بیرونِ ملک سے حاصل ہونے والی رقوم واپس ملک منتقل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ایران تیل فروخت کرنے کے بعد عموماً چینی یوآن میں ادائیگیاں وصول کرتا ہے، جنہیں قابلِ استعمال دوسری کرنسیوں میں تبدیل کرنے کے لیے اسے ایکسچینج کمپنیوں اور مالیاتی ثالثوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی بعض ایرانی ایکسچینج کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے اور ان پر اربوں ڈالر کی غیر ملکی کرنسی کی مبینہ منی لانڈرنگ میں مدد دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔
اگر ان کمپنیوں کو مزید نشانہ بنایا گیا تو ایران کے لیے اپنی رقوم تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ تاہم تہران کئی برسوں سے سرکاری مالیاتی نظام سے باہر رقم منتقل کرنے کے متبادل ذرائع تیار کرتا رہا ہے، اس لیے یہ اقدام مکمل طور پر مالیاتی راستے بند نہیں کر سکے گا۔

3۔ ثانوی پابندیاں

امریکہ ایران کے ساتھ معمولی نوعیت کا لین دین کرنے والے اداروں پر بھی ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے سکتا ہے۔
ایسا ہونے کی صورت میں غیر ملکی کمپنیوں اور بینکوں کو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے یا امریکی مالیاتی نظام تک اپنی رسائی برقرار رکھنے میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس پالیسی سے روس اور چین پر بھی اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے، جبکہ ایران کے پڑوسی ممالک، خصوصاً ترکی، میں موجود کمپنیوں اور مالیاتی ادارے بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔
ٹرمپ پہلے ہی ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، تاہم یہ دھمکی ابھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکی۔

4۔ بیرونِ ملک ایرانی اثاثے

امریکہ ایرانی حکومت کے اثاثے صرف منجمد کرنے کے بجائے اپنی حدودِ اختیار میں موجود کچھ اثاثوں کو ضبط کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔
اس کے لیے 2003 میں عراق پر حملے کے بعد صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے ایک اقدام کو مثال بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم امریکی دائرۂ اختیار میں موجود ایرانی حکومت کے اثاثوں کا حجم محدود ہو سکتا ہے۔ ان اثاثوں کو ضبط کرنا قانونی اور سفارتی اعتبار سے انہیں منجمد کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگا۔

ایران کی بیرونِ ملک دولت کا بڑا حصہ تیسرے ممالک میں موجود ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن کو ان اثاثوں کی ضبطی کے لیے دیگر حکومتوں کے تعاون کی ضرورت پڑے گی۔

5۔ خفیہ ایرانی بحری بیڑا

امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی بندرگاہوں سے آنے جانے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پہلے ہی متاثر ہوئی ہے۔
اب واشنگٹن اپنی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے پر غور کر سکتا ہے، جس میں صرف انفرادی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا ہی نہیں بلکہ ان کمپنیوں، ٹرمینلز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے خلاف بھی کارروائی شامل ہو سکتی ہے جو ایران کے نام نہاد “خفیہ بحری بیڑے” کی شپنگ سرگرمیوں کو ممکن بناتے ہیں۔

امریکہ پہلے ہی اس خفیہ بیڑے سے منسلک متعدد بحری جہازوں اور اداروں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں