3

حماس کے ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کی تصدیق امریکی جرنیل کرے گا

حماس کے ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کی تصدیق امریکی جرنیل کرے گا
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی نمائندہ جیرڈ کشنر نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ امریکی جرنیل حماس کی اسلحہ سے دستبرداری کی تصدیق کریں گے تو اس کے بعد اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلاء ممکن بنایا جائے گا۔

نیتن یاہو نے اس موقع پر یہ اصرار جاری رکھا کہ حماس کے ہتھیار چھوڑنے سے پہلے اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلاء نہیں ہوگا۔

جیرڈ کشنر اور نیتن یاہو کے درمیان اس اتفاق رائے کے ذریعے امریکہ نے نیتن یاہو کو قائل کرنے کی ایک اور کوشش کی ہے۔ نیتن یاہو ان دنوں اسرائیلی عام انتخابات میں مشکل صورتحال سے نمٹ رہے ہیں اور وہ اس وجہ سے عوام کے سامنے غزہ سے فوجی انخلاء کا کھلے عام انکار کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر جو کہ ایک طویل عرصے سے نیتن یاہو کے خاندان کے دوستوں میں شامل ہوتے ہیں نے پیر کے روز یروشلم میں نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ اس سے محض ایک روز قبل انہوں نے مصری حکام اور حماس کے رہنماؤں سے تبادلہ خیال کیا تھا۔ جو یہ وعدہ کرتے ہیں کہ امریکی امن منصوبے کو آگے بڑھایا جائے گا۔

اسرائیل کے ایک عہدیدار نے ‘اے ایف پی’ کو بتایا ہے کہ دونوں اطراف نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ اس وقت تک کوئی نئی ‘ڈپلائمنٹ’ ہوگی اور نہ تعمیر نو کا آغاز کیا جائے گا جب تک حماس خود کو ہتھیاروں سے الگ نہیں کرتی۔

اس ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جب تک حماس اپنے ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوتی غزہ سے فوجی انخلاء نہیں ہوگا۔ نیز حماس کے ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کی نگرانی ایک امریکی فوجی جرنیل کرے گا۔

خیال رہے 30 جولائی کو حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کو تیار ہے لیکن وہ اسرائیل کے سامنے ہتھیار نہیں رکھیں گے۔ بلکہ حماس اپنے ہتھیار فلسطینیوں کی ایک نئی بننے والی گورننگ باڈی کے حوالے کرے گی۔ اس پر نیتن یاہو نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا البتہ ٹرمپ نے اس فیصلے کو سراہا۔

صدر ٹرمپ کے قائم کئے گئے امن بورڈ سے متعلق ایک عہدیدار کا کہنا ہے معاہدے پر عمل سے مراد یہ ہے کہ ایک ایک ہتھیار واپس لیا جائے اور یہ دوبارہ کبھی استعمال نہ ہوں۔ نیز اسرائیل کو اپنے مکمل دفاع کا حق باقی رہے گا۔ اگر حماس کی طرف سے دوبارہ دہشت گردانہ کارروائی کی گئی تو اسرائیل اس کا جواب دینے کا حق رکھے گا۔

جیرڈ کشنر کے ساتھ امن بورڈ کے ایک اور عہدیدار جو یروشلم میں شریک ملاقات رہے وہ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر تھے۔

حماس کے عہدیدار نے کہا کہ ہماری نئی قیادت خلیل الحیہ ہیں اور ہماری قیادت امن منصوبے پر غزہ کے لیے پوری طرح عمل کرنے کو تیار ہے اور چاہتی ہے کہ نیتن یاہو پر بھی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں