سعودی عرب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی جانب سے ’’معاہدۂ مکہ برائے مشترکہ دفاع‘‘ پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’’بڑا، جرات مندانہ اور انتہائی اہم‘‘ اقدام قرار دیا۔
انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی سمت پیش رفت کو بھی سراہا۔
دوسری جانب ایک امریکی سفارت کار نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے واشنگٹن کی جانب سے معاہدۂ مکہ کی حمایت کی وجوہات بیان کیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ تینوں ممالک کی جانب سے مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے اور خطے سمیت دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کی خواہش کا عکاس ہے تاکہ محفوظ اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔
سعودی عرب میں امریکہ کے سابق سفیر مائیکل رَٹنی کا کہنا ہے کہ امریکہ اس معاہدے کو خطے کے امن و سلامتی کے لیے معاون سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ ایران کی مسلسل کارروائیوں سے نمٹنے میں خطے کے ممالک کی صلاحیت بڑھاتا ہے اور یوں پورے خطے کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ اس تین ملکی اتحاد کو خطے میں استحکام بڑھانے اور اپنے مقاصد میں مدد دینے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔مشترکہ سلامتی کے فروغ کی خواہش کے تحت تینوں ممالک نے یہ معاہدہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے قیام اور محفوظ و خوشحال مستقبل کے لیے کیا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی قوت اور بازداریت کو مضبوط بنایا جائے گا۔ معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ دفاعی شعبے میں تینوں ممالک کے درمیان تعاون کی مختلف جہتوں کو فروغ دیا جائے گا۔
سیاسی محققین اور ماہرین کے مطابق معاہدۂ مکہ کا قیام تینوں ممالک کی دفاعی تیاری اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گا۔
اکیڈمک اور سیاسی محقق ڈاکٹر ایاد الرفاعی نے العربیہ کے پروگرام ’’چوتھا نیوز بلیٹن‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے معاہدۂ مکہ کے بارے میں مثبت رویہ امریکی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں کئی برس سے بوجھ کی تقسیم اور اتحادی ممالک کو زیادہ دفاعی و سکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ معاہدۂ مکہ جیسے علاقائی اتحادوں کا خیرمقدم کرتی ہے، بشرطیکہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالیں۔
ڈاکٹر ایاد الرفاعی کے مطابق امریکہ کی ایشیا کی جانب توجہ اور چین کا مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملی بھی واشنگٹن کو مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں اپنے اتحادی اور دوست ممالک کے ساتھ سکیورٹی اتحاد قائم کرنے کی طرف لے جا رہی ہے۔
اس کا مقصد ان ممالک کو چین کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں شامل کیے بغیر امریکی اقتصادی، ثقافتی اور تکنیکی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ عراق اور افغانستان میں اپنے تجربات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل ’’عالمی پولیس‘‘ کا کردار ادا نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے مطابق امریکی ووٹر بھی اب اس کردار کو پہلے جیسا قبول نہیں کرتا۔
ڈاکٹر ایاد الرفاعی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل نئے علاقائی منظرنامے سے باہر ہوتا جا رہا ہے اور 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے خطے کے لیے بوجھ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کے کئی علاقائی اور عالمی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا: اسرائیل کو اب وہ قبولیت حاصل نہیں ،جو اسے ماضی میں حاصل تھی اور وہ سیاسی انضمام کے بجائے فوجی طاقت کے ذریعے خطے میں اپنی موجودگی مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پوسٹ کا جواب دیا جس میں انہوں نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان معاہدۂ مکہ برائے مشترکہ دفاع پر دستخط کا خیرمقدم کیا تھا۔
محمدشہباز شریف نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر اپنے ممالک اور پورے خطے کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن خطے کے عوام کے روشن اور خوشحال مستقبل کی بنیادی شرط ہے اور صدر ٹرمپ کی مسلسل حمایت پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان محمدشہباز شریف اور ترکیہ صدر رجب طیب اردوان نے رواں ماہ کے آغاز میں مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق اس کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ بازداریت کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترکیہ کے انڈیپنڈنٹ کے چیف ایڈیٹر محمد زاہد گُل نے معاہدۂ مکہ کے بارے میں ٹرمپ کے مثبت بیانات کو ’’اہم‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے امریکہ کے ساتھ پہلے ہی تزویراتی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعلقات موجود ہیں۔
