6

تہران جنگ کو واشنگٹن کے ساتھ یورپ تک لے جا سکتا ہے:ذرائع

تہران جنگ کو واشنگٹن کے ساتھ یورپ تک لے جا سکتا ہے:ذرائع

امریکہ کی جانب سے مذاکرات کا دروازہ بند کیے جانے اور ایران کے اپنی شرائط اور مؤقف پر ڈٹے رہنے کے باعث صورتحال مزید کشیدگی کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

ایرانی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تہران اس امکان کا جائزہ لے رہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ میں مزید شدت پیدا کی تو یورپ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی فیصلہ ساز حلقوں سے باخبر دو ذرائع نے فائننشل ٹائمز کو بتایا کہ ایرانی افواج نے جنوب مشرقی یورپ کے بعض ممالک، مثلاً بلغاریہ میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے آپشن کا جائزہ لیا ہے۔ بلغاریہ نے گزشتہ ماہ امریکی طیاروں میں ایندھن بھرنے کے لیے بیزمر ایئر بیس کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

واضح رہے کہ امریکہ اس سے قبل ایران پر بحرِ ہند میں واقع امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیگو گارسیا کی جانب متعدد میزائل داغنے کا الزام عائد کر چکا ہے۔ یہ اڈہ ایران سے تقریباً 4 ہزار کلومیٹر دور ہے، تاہم ان میں سے کوئی بھی میزائل اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔

اسی طرح ترکیہ نے گزشتہ مارچ میں اعلان کیا تھا کہ نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا۔

اسی ماہ قبرص میں واقع برطانوی فضائی اڈے اکروتیری پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔اس وقت مغربی حکام نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ یہ ڈرون ایرانی ساختہ یا ایرانی ڈرون ہو سکتا ہے، جسے خطے میں تہران کے اتحادی جنگجوؤں نے لانچ کیا تھا، تاہم ان کے مطابق حملہ ایران نے براہِ راست نہیں کیا تھا۔

یورپ کے نام پیغام

ذرائع نے مزید بتایا کہ گزشتہ ماہ اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے والا ایرانی حملہ، جس میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے، اب تک ایران کی جانب سے کیا جانے والا سب سے زیادہ درست طویل فاصلے تک مار کرنے والا حملہ تھا۔

ذرائع میں سے ایک نے کہا کہ یہ حملہ یورپ کے لیے بھی ایک پیغام تھا کہ وہ میزائلوں کی زد میں آ سکتا ہے، لہٰذا اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس جنگ میں اسے کہاں کھڑا ہونا ہے۔

انہوں نے مزید کہا:کوئی بھی بہت بڑی غلطی، مثلاً ہمارے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا، جنگ کو خطے سے کہیں آگے لے جا سکتی ہے اور اسے یورپ تک پہنچا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی ردعمل کی نوعیت کا انحصار واشنگٹن کے آئندہ اقدامات پر ہوگا۔ ان میں سے ایک ذریعے نے بتایا کہ ایرانی حکومت جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کر رہی ہے، اگر ٹرمپ نے ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی اپنی سابقہ دھمکیوں پر عمل کیا۔

دوسرے ذرائع نے مزید کہا کہ اگر ایران پر امریکی حملہ ہوا تو تہران اپنے ردعمل کے لیے کسی قسم کی حد مقرر نہیں کرے گا۔

ذرائع میں سے ایک نے یہ بھی بتایا کہ قبرص بھی ممکنہ جوابی کارروائی کے اہداف میں شامل ہے۔ قبرص میں مارچ کے دوران ایک برطانوی فوجی اڈے پر ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔ اگر امریکی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوتی ہیں، تو اس اڈے کو بھی ایرانی جوابی حملے کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز

ذرائع نے مزید بتایا کہ ایرانی افواج نے یہ آپشن بھی زیرِ غور لایا ہے کہ مزید کشیدگی کی صورت میں آبنائے ہرمز میں موجود زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز کو نشانہ بنایا جائے۔

دوسری جانب لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (RUSI) کے محقق سدھارتھ کوشل نے یورپ اور دیگر علاقوں میں اہداف کے لیے ایرانی میزائلوں سے پیدا ہونے والے خطرے کو ”حقیقی لیکن محدود” قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران جنوبی اور جنوب مشرقی یورپ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور دیگر اثاثوں کے خلاف درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل استعمال کر سکتا ہے، مثلاً شہاب سیریز کے میزائل، تاہم ان میزائلوں کے لیے بہت زیادہ دور واقع اہداف کو بڑا نقصان پہنچانا مشکل ہوگا۔اس کے باوجود یہ دھمکیاں تہران میں پائے جانے والے سخت گیر رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔

ایرانی نظام کے اندر بہت سے افراد اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جنگ کا دوبارہ آغاز محض وقت کی بات ہے، خاص طور پر اس وقت جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای نے گزشتہ ہفتے سخت گیر دھڑے سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو اعلیٰ سکیورٹی اور عسکری عہدوں پر ترقی دی ہے۔

پاسداران انقلاب اور دیگر فوجی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی جامع جنگ کی صورت میں کارروائیاں صرف مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں، تیل تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ جغرافیائی اعتبار سے زیادہ دور واقع اہداف تک بھی پھیل سکتی ہیں۔

بہت سے سخت گیر حلقوں کا خیال ہے کہ امریکہ کسی بھی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں اور تہران کو واشنگٹن پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی حتمی سمجھوتے کی صورت میں امریکہ اپنی پاسداری یقینی بنائے۔

ان سخت گیر شخصیات میں سابق پاسداران انقلاب کمانڈر محسن رضائی بھی شامل ہیں، جنہیں خامنہ ای نے گزشتہ ہفتے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا تھا۔تاہم دوسری جانب بعض ایرانی حکام کو خدشہ ہے کہ تہران کشیدگی کو حد سے زیادہ بڑھا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں