ٹرمپ نے ایران کی حمایت کرنے والے کسی بھی ملک کو معاشی نتائج سے خبردار کردیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی قسم کا ’’لائف لائن‘‘ فراہم کرنے والے ملک کو سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکہ، اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ کو تقریباً چھ ماہ بعد ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس کا دائرہ خلیجی ممالک تک پھیل گیا ہے۔ عالمی منڈیوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
جنگ شروع ہونے سے قبل فروری کے آخر تک دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی تجارت اسی راستے سے گزرتی تھی۔
امریکہ اور ایران نے اپریل اور جون میں دو مرتبہ جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جنگ سے پہلے کی سطح پر آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنا اور تنازع کے خاتمے کی جانب پیش رفت کرنا تھا، تاہم دونوں معاہدے جلد ہی ناکام ہوگئے، اگرچہ اسرائیل بڑی حد تک لڑائی سے پیچھے ہٹ چکا تھا۔
بدھ کی شام سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں ٹرمپ نے ’’ایسی اقتصادی جنگ اور غیر معمولی سطح کی تنہائی‘‘ کی دھمکی دی، تاہم اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ٹرمپ نے لکھا: جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کمپنیوں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی نوعیت کی لائف لائن فراہم کرنے کی اجازت دے گا، اسے خود بھی بڑے معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے کسی ملک کا نام نہیں لیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ ان کے انتباہ کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کے خلاف امریکہ کیا مخصوص اقدامات کرے گا۔ بظاہر اس میں امریکہ کے وہ اتحادی بھی شامل ہو سکتے ہیں جنہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں ثالثی میں مدد کی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، چین ایران سے برآمد ہونے والے 80 فیصد سے زیادہ تیل خریدتا ہے۔ یہ اعداد و شمار 2025 کے کیپلر کے تجزیاتی ڈیٹا پر مبنی ہیں۔
امریکہ کی جانب سے چین کے ساتھ مزید اقتصادی جنگ چھیڑنے کا امکان، خصوصاً اہم نایاب ارضیاتی دھاتوں کے معاملے میں، شدید ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔
ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات جاری نہیں ہیں۔ تاہم اس سے ایک روز قبل ان کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں اور ممکن ہے کہ یہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوں۔
ٹرمپ ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ضبط کرنا چاہتے ہیں اور ایک نئے معاہدے کے خواہاں ہیں جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔
یہ معاہدہ 2018 میں امریکہ کی جانب سے یکطرفہ طور پر ختم کیے گئے جوہری معاہدے کی جگہ لے گا۔ایران، جو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا رکن ہے، کئی دہائیوں سے مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
