اسرائیل کے ابو الظھور اڈے پر حملے کا کوئی جواز نہیں:الشیبانی
شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بدھ کے روز انکشاف کیا کہ انہوں نے اسرائیل کو واضح طور پر بتایا تھا کہ ان کی حکومت ترکیہ کے ساتھ مل کر شمال مغربی شام میں واقع ابو الظھور فضائی اڈے پر فوجی موجودگی مضبوط بنانے کے لیے کام نہیں کر رہی، اس کے باوجود اسرائیل نے اس مقام پر حملہ کر دیا۔
الشیبانی نے امریکی ویب سائٹ ’’ایکسِیوس‘‘ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ اس مقام پر ترکیہ فوجی اڈہ قائم کرنے، مستقل ترکیہ فوجی موجودگی رکھنے یا وہاں ترکیہ فوجی تعینات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیغام اسرائیلی حکام تک واضح طور پر پہنچا دیا گیا تھا۔
تقریباً خالی
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کے پاس اس فضائی اڈے پر بمباری کا کوئی جائز جواز نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہاں جاری کام صرف ائیر پورٹ اور اس کی ان تنصیبات کی بحالی تک محدود تھے، جو جنگ کے دوران تباہ یا متاثر ہوئی تھیں، تاکہ انہیں شامی فضائیہ کے استعمال میں لایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فضائی اڈے پر کسی بھی شکل میں ترکیہ فوجی موجودگی یا فوجیوں کی تعیناتی نہیں تھی ،جسے ایسے حملے کے جواز کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
الشیبانی نے مزید بتایا کہ حملے کے وقت فضائی اڈہ تقریباً خالی تھا اور وہاں اب بھی بحالی کا کام جاری تھا۔ یہ مقام ابھی مکمل طور پر فعال فوجی تنصیب میں تبدیل نہیں ہوا تھا۔ان کے مطابق اسرائیلی حملے کو ترکیہ فوجی موجودگی سے جوڑنا زمینی حقائق سے ثابت نہیں ہوتا۔
ترکیہ افسران نے اڈے کا دورہ کیا تھا
الشیبانی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اسرائیلی حملے سے چند روز قبل ترکیہ فوجی افسران نے فضائی اڈے کا دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے زور دیا کہ یہ دورہ ’’تربیت اور تجربات کے تبادلے کے شعبوں میں جاری فوجی تعاون‘‘ کے تحت کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ شام اس وقت اپنے فوجی اور سول اداروں کی ازسرنو تعمیر اور اپنی صلاحیتوں کو ترقی دینے پر کام کر رہا ہے، اسی لیے وہ متعدد ممالک کے ساتھ تعاون اور تربیتی پروگراموں سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور یہ تعاون صرف ترکیہ تک محدود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شام ایک خودمختار ریاست ہے اور اسے کسی بھی ملک، بشمول ترکیہ، کے ساتھ تعاون اور اتحاد پر مبنی تعلقات قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔
دمشق اور تل ابیب کے درمیان رابطے
الشیبانی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسرائیلی حملے سے قبل کے دنوں میں دمشق اور تل ابیب کے درمیان رابطہ قائم تھا اور شامی حکام نے اسرائیل کو فضائی اڈے پر جاری سرگرمیوں کی نوعیت سے آگاہ کیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ یہ اڈہ شام کی خودمختاری اور کنٹرول میں ہی رہے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ شامی حکومت نے حملے سے قبل اور اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا تاکہ کشیدگی کو روکنے اور حملے کے اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
الشیبانی نے زور دیا کہ شام کشیدگی میں کمی کے لیے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی سے متعلق مفاہمت طے کرنے کے لیے اب بھی تیار ہے، تاہم ان کے مطابق استحکام کے لیے دونوں جانب سے باہمی عزم، شام کی خودمختاری کا احترام اور اس کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں امن و استحکام کے حصول کے لیے سیاسی حل ہی سب سے پائیدار راستہ ہے۔
8 فضائی حملے
واضح رہے کہ شام نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ اسرائیل نے ابو الظھور فضائی اڈے پر 8 فضائی حملے کیے، جن میں اڈے کے رن وے اور ذخیرہ کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ اڈہ ترکیہ کی سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے دعویٰ کیا کہ دمشق ’’اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاملات پر طے شدہ موجودہ انتظام کی خلاف ورزی کے قریب پہنچ گیا تھا‘‘، کیونکہ اس نے اڈے پر ترکیہ فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت دی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل نے شام کو متعدد بار خبردار کیا تھا کہ اس طرح کی فوجی تعیناتی اس کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گی، لیکن دمشق نے ان انتباہات کو نظرانداز کرنے کا فیصلہ کیا۔
رابطہ کاری کا نظام، ترکیہ کی ممکنہ شمولیت
دوسری جانب شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام براک نے بعد میں بتایا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان رابطہ کاری اور کسی بھی قسم کے فوجی تصادم کی روک تھام کے لیے ایک نظام دوبارہ فعال کرنے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ کو بھی اس نظام میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل کیے جانے کا امکان ہے۔براک نے بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران انہوں نے شامی صدر احمد الشرع کی حکومت اور اعلیٰ اسرائیلی حکام کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار کی میزبانی کی، جن کا مقصد سرحدی معاملات پر مفاہمت اور کشیدگی میں کمی لانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے آخری دور میں دونوں فریقوں نے مشترکہ اقتصادی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور شام و اسرائیل کے درمیان فوجی تصادم روکنے کے لیے ایک رابطہ کاری کا نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا، جس کا مرکز اردن میں ہوگا۔
براک کے مطابق الشرع حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس کے اسرائیل کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں اور اس کا مقصد صرف ملک کی خودمختاری کا تحفظ ہے۔
ترکیہ فوجی موجودگی
اسرائیل کو شام کے اندر خصوصاً ایسی شامی فوجی تنصیبات میں ترکیہ فوجیوں یا فوجی سازوسامان کی تعیناتی پر تشویش ہے جو اسرائیلی سرحد کے قریب واقع ہیں۔خصوصاً گزشتہ جنوری میں دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جدید ترکیہ ریڈار نظام HTRS-100 کی تنصیب کو اسرائیل نے ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیا تھا۔
اسرائیلی حکام نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ 150 سے 200 کلومیٹر تک فضائی اہداف کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھنے والی ترکیہ فوجی تنصیب کی موجودگی سے شام کی فضائی حدود میں اسرائیلی فضائیہ کی آزادانہ نقل و حرکت محدود ہو سکتی ہے۔
