5

امریکہ کی ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے محاصرہ ختم اور پابندیاں اٹھانے کی پیش کش

امریکہ کی ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے محاصرہ ختم اور پابندیاں اٹھانے کی پیش کش
العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے اپنے دورہ تہران کے دوران ایرانی قیادت کو امریکی پیغامات پہنچائے ہیں۔

ایک باخبر اعلیٰ ذرائع نے دونوں چینلز کو بتایا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور پراکسی حملے بند کرنے کے بدلے میں تہران پر عائد سمندری ناکہ بندی ختم کرنے اور پابندیاں اٹھانے کی پیشکش کی ہے۔

ذرائع نے مزید واضح کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک ایسی پیشکش لے کر ایران گئے تھے جس کے تحت میمورنڈم آف انڈر ایسٹینڈنگ کے تحت محاصرہ ختم اور پابندیاں اٹھائی جانی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل میجر جنرل محسن رضائی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو آگاہ کیا کہ تہران اندرونی طور پر مشاورت جاری رکھے گا اور جلد ہی اپنا جواب دے گا۔

دوسری جانب ایرانی صدر کے دفتر میں مواصلات اور میڈیا امور کے معاون مہدی طباطبائی نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر لکھا کہ کچھ غلط میڈیا تخمینوں کے برعکس دوست ملک پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران انتہائی ثمرآور رہا اور یہ انتہائی قیمتی سفارتی کامیابیوں سے بھرپور تھا جس کے نتائج جلد واضح ہو جائیں گے۔

سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے دورہ

خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازعے میں تعطل کو ختم کرنے، پائیدار امن کے حصول کی راہیں تلاش کرنے اور خطے میں عدم استحکام کے مستقل خاتمے کے لیے پاکستانی سفارتی کوششوں کے حصے کے طور پر ایران کا ایک روزہ دورہ مکمل کر لیا ہے ۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی “ارنا” نے پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دورے کے دوران صدر مسعود پزشکیان، اسلامی شوریٰ کونسل (پارلیمنٹ) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل میجر جنرل محسن رضائی، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے باضابطہ ملاقاتیں کیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات جامع تھے اور ان میں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازعے کے خاتمے کو تیز کرنے کے لیے ضروری اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی۔

دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن اور بات چیت کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

آخر میں پاک فوج نے اعلان کیا کہ ایرانی حکام نے اسلام آباد کے تعمیراتی کردار اور بات چیت کو آسان بنانے، کشیدگی کو کم کرنے اور تنازع کے پرامن حل تک پہنچنے کے لیے اس کی مخلصانہ کوششوں پر “شکریہ” ادا کیا۔

ارنا نے صدر پزشکیان کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے فیلڈ مارشل منیر سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ امریکہ قانون اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ایران کے ساتھ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے ۔ انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ اپنے معاملات میں اپنے رویے کو درست کرنا چاہیے کیونکہ دھونس اور غنڈہ گردی پر انحصار کرنے سے انتظامی کارروائیاں صرف پیچیدہ ہی ہوں گی۔

اسی طرح ایرنا نے قالیباف کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات میں کہا کہ ہم مفاہمت کی یادداشت کی شرائط کے نفاذ کا جائزہ لے رہے ہیں اور امریکہ کو یادداشت کے تحت اپنے وعدوں کی پابندی کرنی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں