5

ثالثوں کی مساعی تیز ،”ہم نے جنگ شروع نہیں کی”:ایرانی صدر

ثالثوں کی مساعی تیز ،”ہم نے جنگ شروع نہیں کی”:ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے ملک نے فروری میں جنگ شروع نہیں کی تھی۔ تہران میں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ “ہم نے جنگ شروع نہیں کی اور ہم نے اپنا دفاع کیا ہے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کمزور نہیں اور وہ جانتا ہے کہ اپنا دفاع کیسے کرنا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ “امریکہ اور اسرائیل نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہمارے ملک کے خلاف جنگ چھیڑی تھی”۔ انہوں نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ “ملک کا دفاع کرنا ایک جائز حق ہے نہ کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ دشمنی، اور ایرانی حکام نے اس حق کا استعمال کیا ہے۔”

سفارتی کوششیں

یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنٹن کے درمیان نقطہ نظر کو قریب لانے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان، قطر اور عمان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے آج جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ “وہ دوست ممالک کے ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا فالو اپ لے رہی ہے۔”

جبکہ قطری وزیراعظم محمد بن عبد الرحمن کی آج تہران آمد متوقع ہے تاکہ سفارتی راستے کو زندہ کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

اس سے چند روز قبل عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی آبنائے ہرمز کے معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے ایرانی دارالحکومت کا دورہ کیا تھا۔

آبنائے ہرمز

ایرانی پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز بدھ کو اعلان کیا تھا کہ ایران اور عمان اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ آبی گزرگاہ اور اس کی آمدنی کو کیسے تقسیم کیا جائے، لیکن بعد میں ایک باخبر اعلیٰ ایرانی ذریعے نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک اب بھی معاہدے کی تفصیلات پر کام کر رہے ہیں۔ رائیٹزر کی طرف سے نقل کردہ بیان کے مطابق، اس ایرانی ذریعے نے کہا کہ “آبنائے ہرمز کے حوالے سے عمان کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا ہے”، اور مزید کہا کہ معاہدے کی تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جون میں فریقین (ایران اور امریکہ) کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت متعدد وجوہات کی بنا پر ناکام ہو گئی تھی جن میں ہرمز پر پائے جانے والے اختلافات بھی شامل تھے، جہاں جنگ پھوٹنے سے پہلے دنیا کی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ چنانچہ جولائی میں واشنطن نے ایرانی سرزمین پر متعدد حملے دوبارہ شروع کر دیے۔

تاہم اس کے بعد دشمنانہ کارروائیاں بڑی حد تک پرسکون ہو گئیں، جب کہ واشنطن نے معاشی دباؤ میں مزید تیزی لانی شروع کر دی اور مزید پابندیوں کا اعلان کیا جن کا مقصد ایران کو اس کے تجارتی شراکت داروں سے الگ تھلگ کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں