5

سابق پاکستانی کرکٹرز کا عمران خان کی جیل میں گرتی صحت پر اظہار تشویش

پاکستان کے سابق نامور کرکٹرز جاوید میانداد اور معین خان نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جیل میں صحت گر رہی ہے۔ ان دونوں کرکٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرکٹ کے اس عظیم سٹار کو جیل سے رہائی دی جائے۔

عمران خان نے 90 کی دہائی میں باضابطہ طور پر سیاسی جماعت بنا لی تھی۔ اس سے کچھ ہی سال پہلے 1992 میں ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ورلڈ کپ جیت کر آئے۔ بعد ازاں انہوں نے ملک میں کینسر کے علاج کے لیے جدید ترین چیریٹی ہسپتال بھی قائم کیا لیکن بالآخر وہ سیاست میں آگئے۔

‘نیریٹیوز پوڈکاسٹ’ کے ساتھ ایک انٹرویو میں جاوید میانداد نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ اپنے تنازعات کو ختم کرے اور انہیں رہا کرے تاکہ ان کا بہتر علاج ہو سکے۔

یاد رہے عمران خان اگست 2023 سے جیل میں بند ہیں۔ ان پر حکومت نے پچھلے برسوں میں بیسیوں مقدمات درج کیے ہیں۔ مقدمات کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ سے ایک مقدمے میں ان کی ضمانت ہونے کے بعد انہیں دوسرے مقمدمے میں گرفتار کیا جاتا رہا۔

جاوید میانداد نے کہا جو کچھ عمران خان کے ساتھ کیا جا رہا ہے وہ درست نہیں ہے۔ میانداد اس موقع پر یہ کہتے ہوئے جذباتی ہو گئے کہ ہم سب کے اہلخانہ ہیں، بچے ہیں۔ اس لیے ہمیں دوسروں کے ساتھ بھی انسانی برتاؤ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا میں سوچتا رہتا ہوں کہ میں عمران کے لیے کیا کر سکتا ہوں کہ ہم ایک زمانے میں بہت قریب رہے ہیں۔ ہم نے پاکستان کو دنیائے کرکٹ میں بلندیوں پر پہنچایا لیکن آج میں اپنے اس ساتھی کے لیے کچھ نہ کر سکنے پر خود کو رنجیدہ دیکھتا ہوں۔

معین خان نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ عمران خان کا مناسب علاج ہو اور ان کی عزت نفس اور حقوق متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹرز کو عمران خان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بولنا چاہیے کہ وہ ہمارے سابق کپتان ہیں۔ کیونکہ عمران خان کی حالت اچھی نہیں ہے ، اس لیے میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عمران خان کو اس کے شایان شان علاج کی سہولتیں دے۔

رمیز راجہ نے بھی عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر تشویش کا اظہار کیا۔ رمیز راجہ کو بھی عمران خان کے زمانے میں کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا۔

یاد رہے پچھلے ہفتے 21 غیر ملکی کرکٹرز نے بھی عمران خان کے حق میں بیان دیے اور مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم ان کے لیے ایک آزاد میڈیکل بورڈ قائم کریں جو ان کے معاملات کو آزادانہ دیکھ سکے۔

دوسری طرف حکومت نے جیل میں صحت کے بگڑنے سے متعلق عمران خان کا مؤقف مسترد کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں