5

آبنائے ہرمز سے متعلق سفارتی کوششوں میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی

آبنائے ہرمز سے متعلق سفارتی کوششوں میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی:کالاس یورپی یونین نے آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ اور بلا رکاوٹ آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے پر کسی قسم کی فیس یا محصول عائد نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ اس اہم بحری راستے سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ و سکیورٹی پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے آئرلینڈ میں یورپی وزرائے دفاع کے اجلاس سے قبل کہا کہ جاری سفارتی کوششیں ابھی تک کسی اہم پیش رفت کا باعث نہیں بن سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت جو پہلے کھلے تھے، یورپی یونین کی ترجیحات میں شامل ہے۔ کالاس نے کہا: ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آزادانہ بحری آمدورفت بحال ہونی چاہیے۔ سفارتی کوششیں اب بھی جاری ہیں، لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین ان بحری راستوں پر کسی بھی قسم کی گزرگاہ فیس یا محصول عائد کرنے کو مسترد کرتا ہے۔ ان کے مطابق آزادانہ بحری آمدورفت اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت کا تحفظ یورپی بحری سلامتی کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ یورپی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب آبنائے ہرمز ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں تنازع کا اہم ترین مرکز بنا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک ماہ سے زائد عرصے تک نسبتاً پرسکون صورتحال کے بعد پیر کو ایک بار پھر فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ تہران نے آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رکھی ہوئی ہے تاہم ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکہ مفاہمت کی یادداشت میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے، تو وہ بھی اپنے وعدوں پر واپس آنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو کہا کہ اگر واشنگٹن جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کی پاسداری کرتا ہے تو تہران فوری طور پر جون میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں دوبارہ قبول کر لے گا۔ پزشکیان نے کرغیزستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر واپس آتا ہے تو تہران بھی فوری طور پر اسی نوعیت کے اقدامات کرے گا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اپریل میں جنگ بندی ہوئی تھی۔ اس کے بعد جون کے وسط میں دونوں فریقوں نے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے، جس کا مقصد حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم جولائی کے آغاز میں دوبارہ مختصر جنگی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد یہ عمل ناکام ہوگیا۔دریں اثنا امریکہ نے حال ہی میں ایران کے خلاف “بے مثال اقتصادی جنگ” شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں