8

ایران کے کسی بھی حملے کا بھرپور اور طاقتور جواب دیا جائے گا: اسرائیل

ایران کے کسی بھی حملے کا بھرپور اور طاقتور جواب دیا جائے گا: اسرائیل
ایران اور امریکہ کے درمیان عسکری محاذ آرائی کی واپسی کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ممکنہ ایرانی حملے کا بھرپور اور بڑے پیمانے پر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے بدھ کے روز پریس بیانات میں مزید کہا کہ اسرائیل آنے والے یہودی تہواروں کے دوران ایرانی حملے کا نشانہ بننے کے امکانات کے لیے تیاری کر رہا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے ہر حملے کو ایک مضبوط جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اس وقت واشنگٹن کے مفادات جو آبنائے ہرمز اور توانائی کی سکیورٹی سے جڑے ہیں کے پیش نظر امریکہ کو ایران کے خلاف حملوں کی قیادت کرنے کی اجازت دے رہا ہے لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ ان کا ملک براہ راست اس محاذ آرائی میں شامل ہو سکتا ہے۔

پوری طاقت کے ساتھ جواب دیں گے

اس کے علاوہ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے ہم پر حملہ کیا تو ہم کسی بھی دوسری فریق سے آزاد ہو کر بڑی طاقت کے ساتھ جواب دیں گے۔

کاٹز نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل نے آپریشن رائزینگ لائن کے دوران ایرانی جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے ۔تل أبيب اس کی تعمیر نو کی کسی بھی کوشش پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس بات پر دوبارہ زور دیا کہ ان کا ملک تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا ۔

یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان محاذ آرائی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جب کہ امریکی افواج نے لگ بھگ سو ایرانی مقامات کو نشانہ بنایا جن میں زیادہ تر پاسداران انقلاب کے تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس نے پاسداران انقلاب کے فضائی دفاعی نظام، ریڈار، سمندری تنصیبات، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتوں اور مواصلاتی مقامات کو نشانہ بنایا۔ جبکہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بینسٹ نے تہران پر معاشی محاصرہ انتہائی کڑا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

جبکہ ایران نے کویت، بحرین، اردن اور عراق کی سمت ڈرونز اور میزائل داغ کر جواب دیا جن میں سے بیشتر کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

اس سے قبل چند ماہ قبل امریکی ذرائع نے بتایا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے تل أبيب سے کہا تھا کہ وہ گذشتہ جون میں دونوں فریقوں (ایرانی اور امریکی) کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد کشیدگی نہ بڑھائے اور نہ ہی ایران پر کوئی حملے کرے باوجود اس کے کہ تل أبيب کو اس وقت اس مفاہمت پر ناپسندیدگی تھی۔ تاہم آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے پر جاری رہنے والے اور بڑھتے ہوئے اختلافات کی وجہ سے یہ مفاہمت جلد ہی تباہ ہو گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں