ایران جنگ ختم کرنے کے اعلان کی تجویز، ٹرمپ نے حمایت کر دی
ایسے وقت میں جب امریکی فوج آئندہ سال 2027 تک مشرقِ وسطیٰ میں اپنی دسیوں ہزار فوجی اہلکاروں کو برقرار رکھنے کی تیاری کر رہی ہے، امریکی اخبار ”وال اسٹریٹ جرنل” نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنے کے امکان پر اپنی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے خفیہ مذاکرات کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ان حکام کے ساتھ خفیہ طور پر جنگ ختم کرنے کے اعلان کے امکان پر تبادلہ خیال کیا ہے، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر فی الحال اسی آپشن کی جانب مائل ہیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ کے نقطۂ نظر سے ایران پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ بالآخر تہران کو اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے یا پھر معاشی تباہی کے خطرے کا سامنا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل” پر لکھا: مجھے ہماری موجودہ صورتحال بہت پسند ہے؛ کیونکہ آبنائے ہرمز پر ہمارا تقریباً مکمل کنٹرول ہے، جبکہ ان کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو رہی ہے۔ وہ صرف اس ناگزیر صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ آخر ایرانی عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور جنگ میں شامل ہوں گے؟
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج
دوسری جانب امریکی فوجی تیاریاں ایک مختلف سمت میں بڑھ رہی ہیں۔ امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی مدت 2027 تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
امریکی اخبار ”وال اسٹریٹ جرنل” نے باخبر ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔اخبار نے لکھا کہ جب امریکہ نے 6 ماہ قبل ایران کے خلاف اپنی مہم شروع کی تھی تو ہیگسیتھ نے ملک کو طویل جنگ میں الجھنے سے بچانے کے لیے ایک تیز اور فیصلہ کن حملے کا وعدہ کیا تھا، تاہم اب وہ خاموشی سے فوجیوں کی تعیناتی کی مدت میں توسیع کر رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ تنازع آئندہ سال کے آغاز کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدام ایک طویل مدتی فوجی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ کے حوالے سے مختلف آپشنز فراہم کرنا ہے۔ تاہم خطے کے مختلف حصوں میں 19 جنگی بحری جہازوں، فضائی دفاعی یونٹس، لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرنز اور پیراٹروپرز کی تعیناتی فوجیوں اور ان کے خاندانوں پر بھاری دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ دیکھ بھال اور مرمت کے کام بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں، جنہیں مکمل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
فوجی آپشنز زیرِ غور
اخبار کے مطابق ایسے وقت میں جب ٹرمپ اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا ان کی حکمتِ عملی کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، امریکی فوج خطے میں تقریباً 50 ہزار فوجیوں پر مشتمل اپنی فورس برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کا ایک مقصد صدر کو آئندہ اقدامات کے تعین میں زیادہ لچک فراہم کرنا ہے۔
موجودہ ذمہ داریوں میں ایرانی میزائلوں کو روکنا، آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا اور ایرانی بندرگاہوں و ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی شامل ہے۔
اگر ٹرمپ جنگ میں مزید شدت لانے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو امریکی افواج وسیع پیمانے پر حملے کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔گزشتہ ماہ ٹرمپ کو ان کے اعلیٰ معاونین نے نئے فوجی آپشنز کے بارے میں بریفنگ دی، جن میں فضائی حملوں میں اضافہ اور آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جزیروں پر قبضے کے لیے زمینی فوج بھیجنے کی تجاویز شامل تھیں۔
ٹرمپ ایک محفوظ ایرانی تنصیب ” کلہاڑی کا پہاڑ ”پر بمباری کے آپشن پر بھی غور کر رہے تھے، جسے خفیہ جوہری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔ ایسی کارروائیوں کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی وسائل درکار ہوتے ہیں۔
