6

معاہدے کے لیے نئی ایرانی حکومت کے اقتدار میں آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے:امریکی وزیر

معاہدے کے لیے نئی ایرانی حکومت کے اقتدار میں آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے:امریکی وزیر
تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی باہمی دھمکیوں اور دونوں جانب سے تردید کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تعطل برقرار رہنے کے دوران امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پانا ممکن نظر نہیں آتا اور امریکی فوجی کارروائی اب بھی ضروری ہے۔

رائٹ نے اتوار کی شام اے بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ممکن ہے کسی معاہدے کے لیے ایران میں آنے والی نئی حکومت کا انتظار کرنا پڑے۔

انہوں نے مزید کہا: ممکن ہے کوئی جوہری معاہدہ ہو ہی نہ، اور معاملہ صرف ایران کی جوہری صلاحیتیں ختم کرنے تک محدود رہے۔ ان کا کہنا تھا: ممکن ہے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران میں آنے والی حکومت کا انتظار کرنا پڑے… ہم بس نہیں جانتے۔

امریکی وزیر نے مزید کہا کہ تہران خطے میں مسائل پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم، ان کے مطابق خطے میں امریکی بحریہ کی موجودگی کا مقصد اس کا مقابلہ کرنا اور تجارتی بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت یقینی بنانا ہے۔

جنگ نہیں، تنازع ہے

جب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اب بھی جنگ کی حالت میں ہے تو انہوں نے موجودہ صورتحال کو تنازع قرار دیا۔ ان کا یہ مؤقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے۔گزشتہ چند دنوں کے دوران ٹرمپ اور ان کے نائب جے ڈی وینس نے بھی جنگ کی شدت کو کم کرکے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

امریکی صدر نے گزشتہ جمعے کو اسے ایک معمولی معاملہ قرار دیتے ہوئے اوول آفس میں صحافیوں سے کہا تھا کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

اسی طرح وینس نے جمعرات کو کہا تھا کہ میں اسے جنگ نہیں سمجھتا۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ جون میں طے پانے والی جنگ بندی اور مفاہمت کی یادداشت بھی ناکام ہوچکی ہے، جس کا مقصد ایک وسیع تر امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔

دوسری جانب اہم بحری راستے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے باعث متعدد دیگر اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے لڑائی میں ایک ماہ کی نسبتاً پرسکون صورتحال کے بعد دوبارہ شدت آگئی۔ مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ اس نے تین ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔

امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں پر میزائل داغنے کی کوشش کے جواب میں کی گئی۔

دوسری جانب تہران نے کسی بھی نئے حملے کا زیادہ سخت جواب دینے کی دھمکی دی ہے اور اشارہ دیا ہے کہ کھیل کے اصول تبدیل ہوچکے ہیں، جس سے قبل از وقت حملے یا امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے امکان کی طرف اشارہ ملتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں