امریکی حملے کی صورت میں ایران کے آئی آر جی سی کی نئے اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی
ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ان کے ملک پر مزید حملے کیے تو وہ نئے اہداف کو نشانہ بنائیں گے اور نئے ہتھیاروں کا استعمال کریں گے۔
جنگ کو تقریباً سات ماہ گذر جانے کے باوجود تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعطل برقرار ہے اگرچہ بظاہر کوئی بھی فریق مکمل جنگ کی طرف واپسی پر آمادہ نظر نہیں آتا۔
ایران کی عسکری قوت کی نظریاتی شاخ آئی آر جی سی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا، “امریکہ کی جانب سے نئے حملے کی صورت میں “ہمارے دفاع اور جوابی کارروائی میں یقیناً نمایاں تبدیلیاں ہوں گی۔”
انہوں نے کہا، “ہم میدانِ جنگ میں نئی صلاحیتوں کے حامل نئے ہتھیار متعارف کروائیں گے اور دنیا حیران رہ جائے گی۔ ہمارے اہداف بھی ضروری نہیں کہ وہی پہلے والے ہوں۔ ہمارے پاس ایسے نئے اہداف موجود ہیں جنہیں اب تک نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔”
پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ “طویل جنگ” کے لیے تیار ہیں۔ سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ایرانی فوج کی مرکزی کمان نے کہا ہے کہ امریکہ تہران کے خلاف کسی نئی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
گذشتہ ماہ کے اواخر میں کشیدگی میں اضافے کے بعد حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی میں کچھ کمی آئی ہے اگرچہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر وقفے وقفے سے حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
دباؤ ڈالنے کی غرض سے فریقین آبی گذرگاہ میں ایک دوسرے کے مخالف ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
