امریکہ دباؤ اور محاصرہ کم کرے تو ہرمز آبنائے کھولنے کے لیے تیار ہیں:ایرانی عہدیدار
ایرانی سینئر ذمہ دار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نیویارک کے اجلاسوں میں شریک وفد کے پاس سفارتی راستے کو بحال کرنے کے لیے مکمل اختیارات موجود ہیں
خبررساں ادارے رائٹرز نے ایک اعلیٰ ایرانی ذمہ دار کے حوالے سے بتایا کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ میں کمی کرے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد محاصرہ اٹھا لے تو ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے۔
ایرانی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ اسے ایسی معلومات موصول ہوئی ہیں کہ امریکہ علاقائی ممالک کی حمایت سے فوجی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اس سے تہران کی جانب سے ایسا ردعمل سامنے آئے گا جو کسی بھی قسم کی پابندی یا لحاظ کو مدنظر نہیں رکھے گا۔
سینئر ایرانی ذمہ دار نے کہا کہ “امریکہ کو باضابطہ طور پر اس مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کرنا ہوگا اور پھر اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ٹائم لائن پر اتفاق کرنا ہوگا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیویارک میں اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں شریک ایرانی وفد کے پاس امریکہ کے ساتھ سفارتی راستے کو بحال کرنے کے لیے مکمل اختیارات موجود ہیں۔
ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو واضح کیا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان جو منگل کی صبح تہران سے نیویارک کے لیے روانہ ہوئے نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں امریکی صدر ڈونالد ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گے۔
اس ذمہ دار نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ نیویارک میں ثالث ممالک کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نےکہا کہ تہران نے اس حوالے سے اپنی تجویز 16 ستمبر کو ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو پہنچا دی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ “اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس امریکہ کے لیے سفارت کاری کی طرف لوٹنے کا ایک سنہری موقع ہیں۔ انہوں نےمزید کہا کہ اگر واشنگٹن نے ٹھوس اقدامات اٹھائے تو تہران سفارت کاری کی بحالی کا خیرمقدم کرے گا۔
ادھر جاپانی خبر رساں ایجنسی “کیوڈو” نے ایک اعلیٰ ایرانی سرکاری ذمہ دار کے حوالے سے نقل کیا کہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں کے تحت اس بات کی پیشکش کی ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کو کم کرنے کی طرف ابتدائی اقدامات اٹھاتا ہے تو وہ سات دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا۔
ذمہ دار نے بتایا کہ اس تجویز کو ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے سامنے پیش کیا گیا تھا، دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری مخاصمت کو مستقل طور پر ختم کرنے کے مقصد سے دوبارہ بات چیت کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
تہران اس ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کو ثالثی کی کوششیں کرنے والے ممالک کے ساتھ مشاورت کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایرانی ذمہ دار نے اجلاس کے موقع پر پزشکیان اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا۔ ذمہ دار نے کہا کہ “معاہدے تک پہنچنے کی طرف پیش رفت کا امکان موجود ہے” ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر واشنگٹن یہ چاہتا ہے کہ سفارتی راستہ آگے بڑھے تو اسے “سنجیدگی اور وابستگی” کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
