اسرائیل کی توسیع پسندانہ عزائم اب ایک علاقائی خطرہ بن چکے ہیں:شاہ عبداللہ دوم
اردنی فرمانبردار کا اقوام متحدہ سے خطاب میں عادلانہ امن کے عزم اور فلسطینی عوام کی استقامت کی حمایت پر زور
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطا میں خبردار کیا کہ وزیر اعظم بنیامن نتن یاھو کے دور میں اسرائیل کے “توسيع پسندانہ عزائم” اب “علاقائی خطرہ” بن چکے ہے۔انہوں نے خاص طور پر شام میں “مسلسل دراندازی اور جغرافیایی پھیلاؤ” کے بارے میں خبردار کیا۔
شاہ عبداللہ دوم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ “اس اسرائیلی حکومت کے توسیع پسندانہ عزائم اب ایک علاقائی خطرہ بن چکے ہے ۔ شام میں مسلسل دراندازی اور پھیلتے ہوئے جغرافیائی پھیلاؤ” سے خبردار کیا جہاں اسرائیل نے گذشتہ مہینوں کے دوران ملک کے جنوبی حصے میں مزید رقبے پر قبضہ کر لیا ہے۔
اردن کے بادشاہ نے کہا کہ کئی دہائیوں سے فلسطینی اسرائیلی تنازعےکا حل کے بغیر جاری رہنا بین الاقوامی برادری کی جانب سے تنازع کو حل کرنے کا مقابلہ کرنے کے بجائے اسے قابو میں رکھنے کا انتخاب کرنے کا نتیجہ ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
شاہ عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے اب “عارضی فوجی اقدامات یا جنگ کے اثرات” نہیں سمجھا جا سکتا، جبکہ مغربی کنارے میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے جو کہ آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی تشدد، زمینوں پر قبضہ، بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کی بے دخلی کی شکل میں ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی پالیسیاں “اسرائیلی حکمت عملی کے دو رُخ” ہیں۔
اردنی فرمانبردار نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ بین الاقوامی برادری کے پاس حرکت میں آنے کے آلات موجود ہیں جن میں پابندیاں، اثاثے منجمد کرنا، پابندیاں عائد کرنا اور سفارتی تنہائی شامل ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے متعلق فیصلے صرف “کاغذ کی سیاہی” بن کر رہ جاتے ہیں۔
ایک اور تناظر میں شاہ عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ اردن کی شمالی سرحد یا اس کی آبی سلامتی کو کوئی بھی خطرہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اردن صرف نظر نہیں کرے گا، بلکہ ہم اپنی سلامتی، اپنے پانیوں اور اپنے عوام کے مفادات کا دفاع کریں گے”۔ اسی کے ساتھ انہوں نے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کا مقابلہ کرنے، اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے اور خطے کے ساتھ اپنے معاشی، تجارتی اور تکنیکی تعلقات کو استوار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اردنی فرمان روا نے منصفانہ امن کے عزم، فلسطینی عوام اور ’انروا‘ کی استقامت کی حمایت، القدس میں اسلامی اور مسیحی مقدسات کے تاریخی اور قانونی موجودہ مقام کو برقرار رکھنے اور ہاشمی وصایت کی امانت کو جاری رکھنے کے عزم کی تجدید کی۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاری سے اردن کی وابستگی انسانی اقدار کے لیے اس کے عزم سے بالاتر نہیں ہے، اور نہ ہی اسے کمزوری کے طور پر غلط سمجھا جانا چاہیے۔
