پاکستانی وزیر خارجہ کا عراقچی سے مکالمے اور سفارت کاری پر قائم رہنے پر زور
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات اور تنازع کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری پر قائم رہنے کی اپنی دعوت دہرائی ہے۔پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد مکالمے اور سفارت کاری پر قائم رہنے پر زور دیا۔
خطے میں استحکام
پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے آج جمعرات کو جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور علاقائی و عالمی صورتحال پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں فریقوں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور باہمی رابطہ و تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
عراقچی، وٹکوف اور کشنر
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی، جب عراقچی کی سربراہی میں ایرانی وفد نے گزشتہ روز نیویارک میں قطری ثالث کے ذریعے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔ یہ کئی ماہ بعد دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور تھا۔
تاہم بظاہر اس ملاقات سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے دونوں فریقوں کے علانیہ مؤقف میں کوئی لچک یا تبدیلی سامنے نہیں آئی۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تہران واشنگٹن کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایران کی تجاویز میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرکے ایرانی بندرگاہوں کو کھولنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو ترجیح دی گئی ہے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ایرانی اور امریکی مؤقف کے درمیان اب بھی کئی اختلافات موجود ہیں، تاہم سفارتی کوششیں جاری ہیں۔یہ بات خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے نقل کی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ روز صحافیوں کو بتایا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے کچھ عرصے تک سخت محنت درکار ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے پاس فوجی آپشنز بھی موجود ہیں۔
واشنگٹن نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایسے کسی بھی ملک پر نام نہاد ثانوی پابندیاں عائد کرے گا جو بدھ کے بعد ایرانی پروازوں کو اجازت دے گا۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے بیان میں اس کے جواب میں کہا کہ اگر پڑوسی ممالک نے ایرانی پروازیں روک دیں تو ایران ان ممالک کے ہوائی اڈوں کی سرگرمیاں متاثر کرنے کو یقینی بنائے گا۔
1
